کابل : افغانستان میں پھنسے ہندو اور سکھ برادریوں کے گروپوں کو طالبان نے تحفظ و سلامتی کا دوبارہ تیقن دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ زائداز 300 ہندوؤں اور سکھوں نے کابل کے کرتے پروان گردوارہ میں پناہ لے رکھی ہے۔ اکالی دل کے ترجمان اور صدر دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی منجندر سنگھ سرسا نے منگل کو ٹوئٹ کیاکہ افغانستان میں ہندو اور سکھ کافی مضطرب ہیں۔ وہ ایمبیسی سے رابطے کے موقف میں تک نہیں ہیں۔ ہماری ڈاکٹر ایس جئے شنکر سے درخواست ہے کہ گردوارہ کرتے پروان صاحب میں پناہ گزین تمام افراد کوہندوستان واپس لانے کا انتظام کیا جائے۔