اوول ۔ ہندوستانی کرکٹرز کے ایک زبردست گروپ کو مہارت اور مزاج کے بہترین امتزاج کی ضرورت ہوگی جب وہ چہارشنبہ کو شروع ہونے والے ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں مساوی طور پر مضبوط آسٹریلیا سے ٹکرائے گا، جس کا مقصد ایک دہائی طویل عالمی ٹرافی کے قحطکو ختم کرنا ہے۔ ہندوستان پچھلے دو ڈبلیو ٹی سی سائیکلوں میں سب سے زیادہ مستقل ٹیم رہا ہے اور پچھلے 10 سالوں میں بڑے وائٹ بال ٹورنمنٹس کے ناک آؤٹ مراحل میں بھی پہنچا ہے لیکن ایک ٹرافی ان سے دور رہی ہے۔ ہندوستان نے آخری بڑی آئی سی سی ٹرافی 2013 میں جیتی تھی جب اس نے انگلینڈ میں چمپئنز ٹرافی جیتی تھی۔ اس کے بعد سے ٹیم تین فائنل ہارچکی ہے اور چار مواقع پر اس نے سیمی فائنل مرحلے میں ناکامی برداشت کی۔ اس نے 2021 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں بھی باہر کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ہندوستان نے جو چھ سیریز کھیلی ہیں ان میں سے اس کی واحد سیریز میں جنوبی افریقہ میں شکست ہوئی اور اس کی وجہ سے روہت شرما نے ویرات کوہلی سے قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ غیر متوقع تبدیلی کی۔ وہ گھر پر ناقابل تسخیر رہے، بنگلہ دیش میں معمولی خوف سے بچنے سے پہلے انگلینڈ میں سخت لڑائی کی سیریز ڈرا کی۔ بڑے خطاب جیتنا ہی ٹیم کی میراث کی وضاحت کرتا ہے لیکن اوول میں فائنل کا نتیجہ کچھ بھی ہو ہندوستان کے ہیڈ کوچ راہول ڈراویڈ کی اپنی ٹیم کے بارے میں رائے تبدیل نہیں ہوگی۔ ڈراویڈ کے بموجب آسٹریلیا میں سیریز جیتنا، یہاں سیریز ڈراکرنا، ہر جگہ بہت مسابقتی ہونا جو اس ٹیم نے گزشتہ پانچ یا چھ سالوں میں دنیا میں کھیلی ہے۔ میرے خیال میں یہ وہ چیزیں ہیں جوکبھی نہیں بدلیں گی صرف اس وجہ سے کہ آپ کے پاس ایک آئی سی سی ٹرافی ہے یا آپ کے پاس نہیں ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان نے حالات کو نظر اندازکیا اور دو سال قبل ساؤتھمپٹن میں فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی روایتی طاقت دو اسپنرز کے ساتھ میدان سنبھالا تھا لیکن اس اقدام سے فائدہ نہیں ملا۔چونکہ اوول اپنے 143 سالہ وجود میں جون میں اپنے پہلے ٹسٹ کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے، ہندوستان نامعلوم حالات کی طرف بڑھ رہا ہے اور اسے چند اہم فیصلے کرنے پڑیں گے جو کھیل کی قسمت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ رویندرا جڈیجہ اورآر اشون دونوں کو ایک ہی ٹیم میں کھیلنا ہمیشہ ایک آزمائش رہے گا لیکن اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ یہ صرف موسم گرما کا آغاز ہے اور پچیں تازہ ہیں، چوتھے فاسٹ بولر کے لیے حالات مضبوط ہیں ۔ بیٹنگ کے شعبے میں رشبھ پنت ٹاپ آرڈرکے ناکامی کی صورت میں ٹیم کو سہارا دینے کا کام کیا ہے لیکن اب وہ دستیاب نہیں ہیں۔ لہذا انتظامیہ کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا اسے ایشان کشن کے ایکس فیکٹر کی ضرورت ہے یا کے ایس بھرت کی زیادہ قابل اعتماد وکٹ کیپنگ کی مہارت کی ۔ چالاک محمد سمیع اور محمد سراج فاسٹ بولنگ میں رہیں گے اور پرانے بولر امیش یادو اور آل راؤنڈر شاردول ٹھاکر کے درمیان ایک فیصلے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے اسکواڈ کے زیادہ تر ارکان دو ماہ طویل آئی پی ایل میں شامل تھے اور لندن جانے سے پہلے انہیں اکٹھے تربیت کے لیے صرف ایک ہفتہ ملا۔ ایک جدید دورکے کرکٹر کے طور پر کسی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فارمیٹس کو آسانی سے تبدیل کرے گا لیکن انگلینڈ میں ٹسٹ کرکٹ کھیلنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا ۔کام اس وقت مشکل ہو جاتا ہے جب کسی کو پیٹ کمنز، مچل اسٹارک اور اسکاٹ بولنڈ جیسے کھلاڑیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ٹسٹ روہت شرما اور ویراٹ کوہلی جیسے سنیئر کے ساتھ شبمن گل جیسے ابھرتے ہوئے اسٹار کے لیے بھی اہم ہوگا۔ چیتیشور پجارا کاؤنٹی کرکٹ میں جس بھرپور فارم کا مظاہرہ کر رہے ہیں اسے بڑھانا چاہیں گے جبکہ اجنکیا رہانے اپنے واپسی شاندار مظاہروں کے خوہاں ہوں گے۔