نئی دہلی، 03 فروری (یو این آئی) ہند۔امریکہ تجارتی معاہدہ، جس کے تحت امریکی محصولات کو ہندوستانی برآمدات پر 50 فیصد کی سزا نما شرح سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے ، ایک اہم پیش رفت ہے ۔ یہ معاہدہ ایک سال سے زیادہ عرصے کی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے ، جس دوران عالمی تجارتی اور سیاسی نظام کئی بار شدید بحرانوں سے گزرا۔ یہ معاہدہ زیادہ بہتر طور پر ایک “استحکام کا اقدام” سمجھا جا سکتا ہے ، جس کا مقصد اقتصادی اور سیاسی تعلقات میں بگڑتی صورتحال کو روکنا ہے ، نہ کہ کسی نئے دور کے انضمام کی طرف فیصلہ کن قدم۔گزشتہ برس ہند-امریکہ تجارتی تعلقات کی سمت ناقابلِ برداشت ہوگئی تھی۔ بڑھتے ہوئے محصولات کے خطرات، متضاد سیاسی اشارے اور بڑھتی ہوئی بے اعتمادی نے مارکیٹ کے اعتماد اور اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں یہ معاہدہ حیرت نہیں بلکہ دونوں کے لیے ضرورت تھا۔ یہ معاہدہ تعلقات کو کھلے تجارتی تصادم کی طرف جانے سے بچاتا ہے ، ایک حد تک پیش بینی بحال کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ واشنگٹن اور نئی دہلی اپنے اختلافات کو سزا دینے والے اقدامات کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہیں۔ 18 فیصد محصول اگرچہ 50 فیصد سے بہتر ہے ، لیکن تاریخی معیار کے لحاظ سے اب بھی زیادہ ہے ۔ مزید یہ کہ ٹرمپ دور میں محصولات کی سطحیں غیر یقینی اور سیاسی عوامل پر منحصر رہی ہیں، جیسے توانائی کی خریداری، انسدادِ منشیات تعاون، خارجہ پالیسی کی ہم آہنگی، امریکی کمپنیوں کے ساتھ سلوک، سپلائی چین کے فیصلے اور دیگر جغرافیائی سیاسی تنازعات۔ ہندوستان کے لیے یہ معاہدہ نسبتا فائدہ مند ہے ۔ 18 فیصد کی شرح ہندوستان کو آسیان ممالک کے مقابلے میں معمولی برتری دیتی ہے ، جہاں محصولات تقریباً 19-20 فیصد ہیں۔ یہ معمولی فرق سرمایہ کاری کے بڑے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔ چین اس پورے منظرنامے پر سایہ فگن ہے ۔ اگر بیجنگ اپنی محصولات کی شرح کو ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے قریب لا سکے تو “چائنا پلس ون” حکمت عملی کو پیچیدہ بنا سکتا ہے ۔ معاہدے کے بارے میں کچھ بڑے دعوے مشکوک ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ ہندوستان جلد ہی امریکہ سے 500 ارب ڈالر کے سامان اور خدمات خریدے گا، موجودہ حقیقت سے میل نہیں کھاتا، کیونکہ 2024 میں امریکہ نے ہندوستان کو صرف 42 ارب ڈالر کے سامان اور 83 ارب ڈالر کی خدمات فروخت کی تھیں۔ زرعی شعبے میں بنیادی اجناس جیسے گندم، چاول اور دودھ غالباً محفوظ رہیں گے ، جبکہ پھل، سبزیاں اور اعلیٰ درجے کی ڈیری مصنوعات پر بات ہو سکتی ہے ۔ معاہدہ روسی توانائی جیسے حساس تیسرے ملک کے تعلقات کو براہِ راست نہیں چھوتا۔ ہندوستان نے کسی ایک ملک سے درآمدات محدود کرنے کی تحریری یقین دہانی دی ہے اور توانائی کے کچھ ذرائع سے وقتی طور پر دور رہنے پر زبانی اتفاق کیا ہے ۔ اصل مسئلہ سیاسی اثراندازی ہے ۔ ماضی میں ہند-امریکہ تعلقات کو دونوں طرف سے غیر سیاسی رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی، لیکن حالیہ مہینوں میں تجارتی تنازعات گھریلو سیاسی بیانیوں سے جڑ گئے ہیں اور اعتماد کو نقصان پہنچا ہے ۔ یہ معاہدہ تعلقات کو بہتر مقام پر لے آیا ہے ، لیکن یہ چھت کو بلند نہیں کرتا، صرف فرش کو مستحکم کرتا ہے ۔ مستقبل میں ہند-امریکہ اقتصادی تعلقات کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق اختلافات کو کس طرح سنبھالتے ہیں، نہ کہ انہیں ہتھیار بناتے ہیں۔
ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر کانگریس برہم پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ
نئی دہلی، 03 فروری (یواین آئی) کانگریس کے شعبۂ ابلاغ کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے دباؤ میں اس کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا ہے ، جس سے ملک کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے ۔ رمیش نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر کہا کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدے اور یورپی یونین کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے کی مکمل تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی جانی چاہئیں اور اس پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر زراعت نے ہندوستان کی جانب سے زرعی درآمدات کے آزاد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کے دباؤ میں کیا گیا ہے ۔ رمیش نے مزید کہا کہ ہندوستان کی سفارت کاری گزشتہ کچھ عرصے سے کمزور ہوئی ہے ۔ اس تناظر میں انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور اس کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کھلے عام حمایت دینے کا ذکر کیا۔