ہنومان چالیسہ میں شرکت کرنے پر دھمکیاں : عشرت جہاں

   

کولکتہ۔ 18جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ میں تین طلاق منسوخی کی درخواست گذار عشرت جہاں نے پولیس میں شکایت کی کہ ان کی ہنومان چالیسہ میں شرکت پر ان کے رشتہ دار اور کمیونٹی افراد نے جان سے مار دینے کی دھمکی دی اور ان کو سخت برا بھلا کہا ۔ ہوڑا میں واقع گولہ باری پولیس اسٹیشن میں داخل کردہ شکایت میں عشرت جہاں نے اپنے بہنوائی اور مکاندار پر الزام لگایا کہ ان کے پڑوس میں منگل کو منعقدہ مذہبی پروگرام میں شرکت کرنے پر ان کو نہ صرف دھمکیاں دی گئیں بلکہ ان کی سخت بے عزتی کی گئی ۔ چہارشنبہ کو جب وہ اپنے بیٹے کو اسکول چھوڑ کر واپس گھر پہنچیں تو گولہ باری علاقہ کے سینکڑوں افراد نے ان کے مکان کو گھیر لیا اور ہنومان چالیسہ میں شرکت کرنے پر سخت دھمکیاں دیں ۔ ان کی شکایت پر گولہ باری پولیس اسٹیشن آفیسر نے کہا کہ اس معاملہ میں تحقیقات جاری ہے ۔ عشرت جہاں نے پولیس سے درخواست کی کہ ان کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئی ہے لہذا ان کو پولیس تحفظ مہیا کیا جائے ۔ انہوں نے اپنی شکایت میں کہا کہ ہم ایک سیکولر ملک میں رہ رہے ہیں اور ہر مقدس تہوار میں حصہ لینے کا حق رکھتے ہیں اور وہ بحیثیت ایک اچھے شہری کہ اپنا فرض نبھا رہی ہیں اور انہوں نے کہا کہ ان کے بہنوائی اور مکاندار نے ان کو سخت برا بھلا کہا اور مکان سے نکل جانے کی دھمکی دی ہے ۔ عشرت جہاں نے کہا کہ جب دوسری کمیونٹی کے افراد مسلمانوں کے تہوار میں حصہ لیتے ہیں تو مسلمانوں کو ان کے مذہبی تہوار و تقاریب میں حصہ لینے میں کیا قباحت ہے ؟ ۔