ہڑتال شروع کرنے واٹر ٹینکر آپریٹرس کی دھمکی

   

حیدرآباد : واٹر ٹینکر آپریٹرس کو فیول کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ان کی اسوسی ایشن کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہیکہ گذشتہ چند ماہ میں ہوئے فیول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ انہیں ہونے والے مالی نقصان پر قابو پانے کیلئے 120 روپئے فی ٹینکر، فی ٹرپ کا اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کی دھمکی بھی دی کہ اگر شرحوں پر نظرثانی نہیں کی گئی تو وہ ہڑتال کریں گے۔ کے راج ریڈی، صدر ایچ ایم ڈبلیو ایس اینڈ ایس بی واٹر ٹینکرس اونرس اسوسی ایشن نے کہا کہ موجودہ ٹیرف پر واٹر ٹینکرس چلانا ان کے لئے مالی طور پر قابل عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا واٹر بورڈ سے پرزور مطالبہ ہیکہ ٹیرف (شرحوں) پر نظرثانی کی جائے تاکہ لاکھوں صارفین کو خلل کے بغیر ٹینکر سپلائز کو یقینی بنایا جائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی ایک وفد واٹر بورڈ کے عہدیداروں سے ملاقات کرکے ہڑتال شروع کرنے کی نوٹس دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف میں اضافہ کیلئے اگر ہمارے مطالبہ کو پورا نہیں کیا گیا تو ہم ٹینکرس کے پانی سربراہ کرنے کو روک دیں گے۔ فی الوقت واٹر بورڈ ڈومیسٹک اور ملٹی اسٹوریڈ ڈومیسٹک بلڈنگس کے لئے 500 روپئے (پانچ کیلو لیٹرس کیلئے) اور 1000 روپئے (10 کے ایل کیلئے) وصول کررہا ہے۔ اسی طرح بورڈ کمرشل اور دیگر زمروں کے صارفین کیلئے 850 روپئے (5KL کیلئے)، 1,700 روپئے (10 KL) اور 3400 روپئے (20 KL کیلئے) چارج کرتا ہے۔ اسوسی ایشن کے ارکان نے واٹر بورڈ کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے موجودہ شرحوں پر نظرثانی کرنے پر زور دیا جس پر گذشتہ میں 2017ء میں نظرثانی کی گئی تھی۔ واٹربورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ وہ شرحوں پر نظرثانی سے متعلق فیصلہ گرما کے بعد ہی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹینکرس اسوسی ایشن کی جانب سے ٹیرف پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور ہم ان کے اس مطالبہ پر موسم گرما کے بعد ہی غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 20KL فری واٹر سپلائی اسکیم شروع کرنے کے بعد ٹینکرس کی مانگ کم ہوگئی ہے۔