روش کمار
فی الوقت سارے ملک میں مہاراشٹرا کے ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں موت کو لیکر مختلف باتیں کی جارہی ہیں اور شکوک و شبہات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے۔ اجیت پوار کی موت سے یقینا مہاراشٹرا کی سیاست ایک نیا موڑ اختیار کرسکتی ہے۔ بہرحال ہیلی کاپٹر حادثہ میں اس میں سوار تمام افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ کیپٹن سمپت کپور طیارہ اڑا رہے تھے اور ان کے ساتھ کیپٹن شامبھوی پھاٹک بھی تھیں۔ اجیت کے ساتھ ان کے سیکورٹی اہلکار دویپ جادھو اور ینکی مالی تھی، ان تمام کی موت ہوگئی۔ حادثہ کی وجوہات کی تحقیقات تو ہوگی ہی لیکن ابھی تک جو معلومات آرہی ہیں اس کے مطابق کراش لینڈنگ ہوئی ہے یعنی پائلٹ کو سمجھ آیا ہوگا کہ کوئی ٹیکنکی گڑبڑی ہوچکی ہے جس کے باعث ہیلی کاپٹر کو لینڈ کرنا پڑا اس دوران یہ حادثہ پیش آیا ہوگا۔ بارا متی ایرپورٹ کے منیجر کا بیان آیا ہے میڈیا میں کہ ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی کوشش میں رن وے کے باہر چلاگیا اور کراش ہوگیا یہ سب میڈیا میں رپورٹ ہورہا ہے۔ پی آئی بی کی طرف سے بھی جانکاری دی گئی جس کے مطابق پائلٹ کا کہنا تھا کہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ہیلی کاپٹر نے ایک بار چکر لگایا اس کے بعد پائلٹ سے پھر پوچھا گیا کہ آپ کہاں ہے اور بتائے کہ آپ کو رن وے دکھائی دے رہا ہے یا نہیں؟ پائلٹ نے جواب دیا نہیں۔ جب رن وے دکھائی دے گا آپ کو کال کریں گے بعد میں ہیلی کاپٹر سے جواب آیا کہ رن وے دکھائی دے رہا ہے تب ہیلی کاپٹر کو لینڈ کرنے کی منظوری دی گئی لیکن پائلٹ کی طرف سے اس منظوری کا جواب نہیں آیا۔ پائلٹ کی طرف سے مئی ڈے کال نہیں کیا گیا جو ہنگامی حالات میں کیا جاتا ہے۔ ایک منٹ بعد ایر ٹریفک کنٹرول کو آگ کے شعلہ دکھائی دیتے ہیں۔ ایرکرافٹ انوسٹی گیشن بیورو اب اس کی تحقیقات کررہا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ بارا متی ایرپورٹ پرائیویٹ پارٹی چلارہی تھی حال ہی میں اسے مہاراشٹرا ایرپورٹ ڈیولپمنٹ کمپنی کو سونپا گیا۔ اجیت پوار سرکاری ہیلی کاپٹر میں سفر نہیں کررہے تھے پرائیویٹ کمپنی کے ہیلی کاپٹر میں یاترا کررہے تھے۔ چارٹر فلائیٹ میں ہیلی کاپٹر کا نام Learjet-45 تھا۔ چارٹر طیارہ کی شکل میں اس طرح کے ہیلی کاپٹروں کا استعمال عام ہے۔ یہ بمبار ڈیر ایراسپیس کا ہیلی کاپٹر تھا چھوٹا ہیلی کاپٹر ہے اور تیز اڑتا ہے۔ بارامتی جیسے ایرپورٹ پر بھی آسانی سے لینڈ ہوجاتا ہے اس لئے کافی استعمال کیا جاتا ہے۔ اجیت پوار جس ہیلی کاپٹر میں تھے اس کا VSR ایوی ایشن نامی کمپنی کی جانب سے انتظام کیا گیا تھا۔ 15 سال پرانی اس کمپنی میں 60 پائلٹ ہیں اور اس کے پاس 18 طیارے ہیں جس میں سے ایک میں اجیت پوار سفر کررہے تھے جو حادثہ کا شکار ہوگیا۔ 2023 میں اسی کمپنی کا ایک اور Learjet-45 ممبئی ایرپورٹ پر شدید بارش کے باعث حادثہ کا شکار ہوگیا تھا۔ ڈھائی سال ہوگئے آج تک اس معاملہ میں ایرکرافٹ انوسٹی گیشن بیورو نے اپنی تحقیقات کی حتمی رپورٹ پیش نہیں کی ہے یہ حالت ہے اس ملک میں طیارہ حادثات کی تحقیقات کی۔ اس حادثہ میں تمام لوگ بچ گئے تھے۔ اجیت پوار جس ہیلی کاپٹر میں سوار تھے اسے چلانے والی کمپنی کو لیکر دبی دبی زبان میں کئی باتیں ہورہی ہیں جن کی ہم تصدیق نہیں کرسکتے لیکن ہندوستان میں یہ کونسی بڑی بات ہے آپ سسٹم کے قریب جاکر دیکھیں گے یہی سب سنائی دے گا کہ فلاں یہ ہے فلاں وہ ہے۔ اس کا یہاں اثر ہے تو یہاں جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کے جواب آپ کو کبھی نہیں ملنے والے ہیں۔ ہیلی کاپٹر اڑ رہا تھا۔ پیشہ وارانہ تربیت یافتہ پائلٹ اڑا رہے تھے اور وہ تباہ ہوگیا جس میں مہاراشٹرا کے ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار سوار تھے۔ چیف منسٹر دیویندر فڈنویس کا کہنا تھا کہ ہم تمام کیلئے اس بلند پایہ عوامی لیڈر سے محروم ہونا ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ انفرادی طور پر میرے لئے وہ دلدادہ اور دم دار دوست تھے اور ہم دونوں نے ساتھ میں کافی جدوجہد کا دور بھی دیکھا ہے اور اب وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ مہاراشٹرا کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کررہے تھے اور ایک بہت لمبی اننگ وہ کھیلیں گے۔ ایسے وقت ان کی موت کے بارے میں اظہارخیال کیلئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ VSR کے بارے میں یہی معلومات ہیں کہ دہلی کے وسنت کنج میں واقعہ اس کمپنی کے سربراہ وجئے کمار سنگھ اور روہت سنگھ۔ روہت وجئے کمار کے بیٹے ہیں اور دونوں ٹریننگ سے پائلٹ ہیں۔ دہلی، ممبئی حیدرآباد اور بھوپال سے ان کے طیارے اڑتے ہیں۔ وی ایس آر ایوی ایشن کے تحت وی ایس آر وینچرس اور وی ایس آر ایرو انجینئرنگ دو کمپنیاں آتی ہیں۔ 2023ء میں جب اس کا یہی ہیلی کاپٹر Learjet45 کراش ہوا تب ٹائمس آف انڈیا میں ایک بیان شائع ہوا کہ مہاراشٹرا اور گجرات کے ہر بڑے لیڈر نے اس ہیلی کاپٹر میں سفر کیا ہوگا۔ دیویندر فڈنویس سے لیکر ایکناتھ شنڈے بھی اس میں سفر کرچکے تھے۔ موجودہ ہیلی کاپٹر کے بارے میں بھی شائع ہورہا ہے کہ یہ لیڈروں کے کافی استعمال میں رہتا ہے۔ 2023ء کے حادثہ میں ہیلی کاپٹر کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے پھر اسی طرح کے ہیلی کاپٹر کو استعمال کیوں کیا جارہا تھا۔
چاندی کی چاندی
ملک میں ہی نہیں ساری دنیا میں سونے چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشہ اضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔ لوگ جہاں سونے کی قیمت میں اضافہ کو لیکر پریشان ہیں وہیں چاندی کی قیمت بھی آسمان کو چھورہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آخر چاندی کی قیمتوں میں اضافہ اور وہ بھی بے تحاشہ کیوں ہورہا ہے اور کیوں لوگ چاندی کے پرانے برتنوں اور چیزوں کو فروخت کرنے میں مصروف ہیں، بہت ایسے ہیں جو انہیں بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک طرف دام بڑھتا ہی جارہا ہے تو دوسری طرف اسی بہانے لوگ پرانے برتنوں سے چھٹکارا پاکر پیسے کما لینا چاہتے ہیں۔ فروخت کرنے والوں کو فائدہ تو ہورہا ہے لیکن پچھلے ایک سال میں جن لوگوں نے چاندی میں سرمایہ لگایا ہوگا ان کے منافع کا بھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اس وقت ایک کیلو چاندی 350000 روپئے کی ہوگئی۔ ایک سال پہلے ایک کیلو چاندی کی قیمت 45 ہزار تھی۔ جنوری 2026ء میں 3.5 لاکھ کی ہوگئی۔ ایک سال کے دوران چاندی کی قیمت میں 250 فیصد کا اچھال آ گیا۔ 250 فیصد کوئی معمولی بات نہیں۔ ہندوستان میں چاندی کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے مگر اس کہانی کے کردار اور بھی کئی ممالک ہیں جہاں چاندی کا استعمال ہوتا ہے۔ دنیا میں 65 فیصد چاندی چین سے آتی ہے۔ چین کے علاوہ آسٹریلیا، میکسیکو، بولویا اور امریکہ میں بھی چاندی کی پیداوار ہوتی ہے۔ سال 2024ء میں ان تمام ملکوں کی کانوں میں چاندی کی پیداوار بڑھ گئی مگر چلی میں پیداوار گھٹ جانے سے حساب برابر ہوگیا۔ 2025ء میں میکسیکو اور روس میں سپلائی ٹھیک ہوئی تو پیرو اور انڈونیشیا میں کم ہوگئی۔ اتنے ساری ملکوں کے خزانہ مل کر چین کی بھرپائی نہیں کرپارہے ہیں۔ چین نے رواں سال سے لیکر اگلے سال 2027ء تک کیلئے چاندی کی برآمد پر روک لگادی تو ہوا کیا انڈسٹری کی طرف سے چاندی کی طلب کم تو نہیں ہورہی بڑھتی جارہی ہے اور سپلائی کم ہونے سے دام بڑھنے لگا ہے جن کانوں سے سیسہ اور تانبہ نکلتا ہے ان ہی سے چاندی نکالی جاتی ہے۔ سونے کی کانوں سے بھی چاندی نکلتی ہے اور حالیہ برسوں میں سونے کی کانوں سے چاندی کا اوٹ پٹ بڑھا ہے۔ دنیا میں چاندی کی سب سے بڑی کانوں والے ملکوں میں میکسیکو، چین، پیرو، بولویا اور چلی شامل ہیں تو کیا چین اپنے دبدبے کا فائدہ اٹھارہا ہے۔ برآمدات پر روک لگا کر مجبور کررہا ہے کہ چاندی کی سپلائی میں کمی آئے اور اس کا دام بڑھتا رہا۔ چین میں بھی چاندی ہندوستان سے کافی مہنگی ہے۔ وہاں ہندوستان کے مقابل 17 فیصد قیمت زیادہ ہے۔ چاندی میں تجارت اور پیپر ٹریڈنگ دونوں میں چین سب سے بڑے بازاروں میں ہے۔ ایک سال تک اگر چاندی کی درآمدات پر پابندی رہے گی تو چاندی کی قیمتوں میں بھی اور اثر پڑ سکتا ہے۔ دام بڑھنے کی پیش قیاسی کرنے والے صحیح ثابت ہوسکتے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ چین اچانک پابندی اٹھالے۔ قیمت کم ہونے کی پیش قیاسی کرنے والے صحیح ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم چاندی کی چاندی پر بات کررہے ہیں۔ چاندی کو لیکر دنیا بھر میں کیا رپورٹنگ ہورہی ہے؟ کس طرح کی باتیں ہورہی ہیں ہم ان ہی سے آپ کواقف کروائیں گے۔ ہمارے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ پچھلے ایک سال میں چاندی کی قیمت میں 250 فیصد کا اضافہ ہوا۔ جاریہ سال کے پہلے ماہ میں 55 فیصد قیمت بڑھ گئی ہے تو آگے اور کتنی قیمت بڑھ سکتی ہے۔ یہ سب جاننے کیلئے چاندی سے پہلے آپ کو راکٹ خرید لینا چاہئے تاکہ چاندی سے پہلے آپ راکٹ سے آسمان میں پہنچ جائیں اور وہاں سے دنیا بھر میں چاندی کی قیمتوں کو اپنی طرف یعنی آسمان کی طرح آتا ہوا دیکھیں اور حساب لگائیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہیکہ چاندی کو لیکر آنے والی خبروں پر توجہ مرکوز کریں چوکس رہئے ہوشیار رہئے۔ جن لوگوں نے چاندی کو غیراہم سمجھا ہوگا آج وہ پچھتا رہے ہوں گے۔ گزشتہ ایک سال کا ریکارڈ بتاتا ہییکہ قیمت بڑھنے کی پیش قیاسی درست ثابت ہوئی اور بیچ بیچ میں قیمتوں کے بھیانک انداز میں گرنے پر ہائے ہائے کرنے والوں کو ایک دودن ہی صحیح ثابت ہونے اک موقع ملا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک چاندی کو Strategic Metal کہنے لگے ہیں جس چاندی کے گلاس کو کٹورے اور باٹل وغیرہ کو کوئی پوچھتا نہیں تھا اس چاندی کے نام پر ملکوں میں جنگ ہورہی ہے۔ اپنی دادی نانی کا شکریہ ادا کیجئے کہ انہوںنے آپ کے پیدا ہونے پر اسٹرٹیجک میٹریل کا بنا گلاس اور بوتل تحفہ میں دیا تھا۔ پہلے یہ سمجھئے کہ چین نے چاندی کی برآمدات پر روک لگائی تو ایلون مسک جیسے ارب پتی کیوں پریشان ہوگئے۔ مسک کا کاروبار کس چیزوں کا ہے اور صنعتی حلقوں میں چاندی کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟ مسک کے مطابق کئی طرح کے صنعتی عمل میں چاندی کا استعمال ہوتا ہے اس لئے چین نے روک لگا کر اچھا نہیں کیا ہے۔