رانچی: جھارکھنڈ اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں ہیمنت سورین کی حکومت نے آج اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔حکومت کی حمایت میں 45 اور مخالفت میں صفر ووٹ ڈالے گئے ۔ اعتماد کے ووٹ کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین اسمبلی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے ۔ آزاد ایم ایل اے سریو رائے نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانبدار رہے ۔ جھارکھنڈ اسمبلی میں ایم ایل اے کی کل تعداد 82 ہے ، جن میں سے 5 سیٹیں اب بھی خالی ہیں جبکہ ایک اسپیکر ہیں۔ قبل ازیں اسمبلی میں قائد حزب اختلاف امر کمار باوری نے کہا کہ حکمراں پارٹی کے ایم ایل ایز کے درمیان کھینچ تان ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پرتیسری بار اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی تجویزآج سامنے آئی ہے ۔ باوری نے کہا کہ پانچ سال کرپشن کا نیا ریکارڈ بنا۔ انہوں نے کہا کہ اگلی بار ان کی حکومت نہیں بنے گی۔ سابق وزیر اعلی چمپائی سورین نے کہا کہ جھارکھنڈ کو سیاسی تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ اتحاد کی جانب سے انہیں حکومت بنانے کا موقع ملا۔ پانچ مہینوں میں تین ماہ لوک سبھا انتخابات میں چلے گئے ۔ 24 سال میں جھارکھنڈ کے قبائلی عوام کی مناسب ترقی نہیں ہوسکی۔کانگریس ایم ایل اے اوماشنکر اکیلا نے کہا کہ جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد ریاست میں کس پارٹی نے سب سے زیادہ وقت تک حکومت کی، یہ سب کو معلوم ہے ۔ ملک میں دو کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرکے عوام کو دھوکہ دیا۔ ملک کے کسانوں نے تیرہ ماہ تک احتجاج کیا۔