نئی دہلی: دہلی کی تہاڑ جیل انتظامیہ نے ہفتہ (22 جولائی) کو سپریم کورٹ میں یاسین ملک کی ذاتی پیشی میں لاپرواہی برتنے پر 4 افسران کو معطل کر دیا ہے۔ ان میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، 2 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور ایک دیگر افسر شامل ہیں۔ 21 جولائی کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ہوم سکریٹری اجے بھلا کو ایک خط لکھ کر سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کے بلائے بغیر یاسین کو عدالت میں کیوں لے جایا گیا؟ مہتا نے اسے سپریم کورٹ کی سیکوریٹی میں سنگین کوتاہی قرار دیا۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ یاسین جیسا دہشت گرد اور علیحدگی پسند رہنما، جسے نہ صرف دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں سزا سنائی گئی ہے بلکہ اس کے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں سے بھی تعلقات میں فرار ہو سکتے تھے، زبردستی لے جایا جا سکتا تھا یا مار دیا جا سکتا تھا۔
یٰسین ملک کی سیکورٹی میں لاپروائی تہاڑ جیل کے 4 ملازم معطل
نئی دہلی :دہلی جیل کے حکام نے یٰسین ملک کی سیکورٹی میں ہوئی لاپروائی کے تعلق سے 4 اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ ایک عہدیدار نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ ٹیرر فنڈنگ معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) چیف یٰسین ملک کو اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر پر عمل کیے بغیر سپریم کورٹ لیجانے کے بعد 21 جولائی کو جیل افسران نے جانچ شروع کی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جیل کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ 21 جولائی کو سپریم کورٹ میں یٰسین ملک کی جسمانی پیشی کے معاملے میں جیل محکمہ نے 21 جولائی کی شب ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، دو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور ایک ہیڈ وارڈن کو معطل کر دیا ہے۔ ان چاروں کو ابتدائی جانچ کی بنیاد پر پہلی نظر میں ذمہ دار پایا گیا تھا۔ افسر کا کہنا ہے کہ دیگر افسران کی شناخت کرنے کے لیے ڈی آئی جی تہاڑ کی طرف سے تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے۔