ابوظبی ؍ تل ابیب ۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) متحدہ عرب امارات کے سرکاری ایئرلائن اتحاد ایئر ویز نے منگل کو ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اسرائیل کیلئے اپنی دوسری پرواز روانہ کی جس میں انہوں نے فلسطینیوں کیلئے کورونا وائرس سے لڑنے میں مدد کیلئے طبی امداد بھیجی۔واضح رہے کہ اردن اور مصر کے سوائے عرب ممالک کے اسرائیل سے باضابطہ کوئی سفارتی تعلقات نہیں لیکن ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی ایران سے دشمنی کے تناظر میں اب ان کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔مئی کے وسط میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے لیے اپنی پہلی پرواز چلائی، اتحاد ایئرویز کی اس پرواز میں فلسطینیوں کے لیے کورونا وائرس سے بچاؤ کی امداد شامل تھی۔ اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ طیارے کے بارے میں معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ منگل کو طیارے میں پہلی مرتبہ عرب ایئرلائنز کا لوگو بھی لگا ہوا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اتحاد ایئرویز کے لوگو والا طیارہ اسرائیل جا رہا ہے‘۔دوسری جانب اسرائیل کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کے لیے منگل کو جانے والی پرواز دوسری پرواز تھی۔وزارت نے بتایا کہ ‘متحدہ عرب امارات سے یہ دوسری براہ راست پرواز ہے اور اس میں فلسطینیوں کے لیے طبی امداد ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ امداد اقوام متحدہ کو تقسیم کرنے کیلئے دی جائے گی‘۔ادھر فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو پرواز کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر راملہ میں واقع فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے دفتر میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اماراتی طیارے کی آمد پر ہمیں حیرت ہے، ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا‘۔