ڈرائیور، گاڑی مالکین کو بھی ملزم بنانے کی گنجائش ، یوگی حکومت کی ہندوتوا ایجنڈے پر عمل آوری
لکھنؤ ۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک طرف ہندوستان میں کورونا بحران کی وجہ سے ہنگامی حالت پیدا ہے، اور دوسری طرف یوگی حکومت نے خاموشی کے ساتھ کابینہ میں گاؤکشی سے متعلق قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس پاس کرا لیا۔ ریاستی حکومت نے منگل کے روز کابینہ کی میٹنگ میں ‘گاؤکشی روک تھام ترمیم آرڈیننس 2020’ پاس کیا جس کے مطابق اب گاؤکشی کے قصورواروں کے لیے قید کی سزا 7 سال سے بڑھا کر 10 سال کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جرمانہ بھی 3 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ کر دیا گیا ہے۔میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق گاؤکشی پر یوگی حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے یہ بھی فیصلہ لیا ہے کہ گاؤکشی کرنے والوں کے پوسٹر عوامی مقامات پر چسپاں کیے جائیں گے تاکہ لوگ گاؤکشی سے باز آئیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد گائے نسل کے جانوروں کی حفاظت کرنا اور گاؤکشی جیسے جرائم کو پوری طرح سے روکنا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ منگل کے روز وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں کابینہ کی آن لائن میٹنگ ہوئی۔ اس میں مختلف محکموں کے 14 تجاویز کو منظوری دی گئی۔ اتر پردیش انسداد گاؤکشی (ترمیم) آرڈیننس، 2020 کے خاکہ کو بھی منظوری دے دی گئی۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس آرڈیننس کا مقصد اتر پردیش انسداد گاؤکشی ایکٹ، 1955 کو مزید منظم اور اثرانداز بنانا ہے۔سرکار نے گاؤکشی سے متعلق قانون میں کچھ مزید سختیاں بھی کی ہیں۔ خبروں کے مطابق اس قانون کو سخت کرتے ہوئے گائے اسمگلنگ میں شامل گاڑیوں کے ڈرائیور، آپریٹر اور مالک کو بھی ملزم بنائے جانے کی بات کہی گئی ہے۔