یو پی کا تجربہ ، تلنگانہ میں بھی کرنے کی کوشش

   

مسلمان 2023 انتخابات سے قبل نوشتہ دیوار پڑھ لیں ، صدر ایم پی جے محمد عبدالعزیز کا بیان

نظام آباد ۔مولانا جعفر پاشاہ ثانی عاقل حسامی کیساتھ پولیس کے ناروا رویہ کی شدید مذمت اور اس سے بھی کہیں زیادہ ملّت کے غیور علما و قائدین جو اجتماعی صف میں مولانا جعفر پاشاہ کیساتھ دکھائی دیتے تھے!؟ اس حساس مسئلہ پر بیشتر کی خاموشی مسلمانان تلنگانہ کے حق میں فال نیک نہیں۔ریاستی صدرموؤمنٹ فار پیس اینڈ جسٹس تلنگانہ محمد عبدالعزیز نے اس واقعہ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئے دن لاک ڈاؤن کا سہارا لیکر اس طرح کی بربریت ایک جمہوری اور مہذب سماج کے لئے نا قابل قبول ہے۔ اب تک تو یہی کہا جاتا رہا کہ کچھ غیر ذمہ دار نوجوان لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور پولیس کے لئے درد سر بن رہے ہیں لیکن ایک معزز عالم دین، رکن تاسیسی متحدہ مجلس عمل،دارالعلوم حیدرآباد کے ناظم و روح رواں کیساتھ اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ رویہ میری دانست میں محض اتفاق نہیں بلکہ یو پی کا تجربہ کو سر زمین تلنگانہ پر لانا ہے اور مختلف اعلانات کے ذریعہ مسلمانوں کے احساسات و جذبات کا امتحان لینا اور ان کے جائز حقوق سے محروم کر کے یہ دیکھنا کہ ان کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔بہرحال کسی زندہ اور مہذب سماج میں کسی ایک شریف کے گریباں تک ظلم کے ہاتھوں کا منصوبہ بند انداز سے ایک کے بعد دیگرے (آلیر انکائونٹر سے معین آباد واقعہ تک سرکاری نامزد عہدوں سے محرومی سے لیکر مختلف اضلاع و رنگ روڈ کے ناموں کو نامور ترین شُرفا سے موسوم کرنا! کیا سونچی سمجھی ’’پریاگ طرز‘‘کی ذہنیت نہیں ہے؟کیا یہ ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنا کر اسکی دل آزاری نہیں ہے؟ سیکولرزم طرز حکومت کا نام طرز بیان کا نہیں! مسلمانان تلنگانہ 2023ء؁ کے انتخابات سے کافی پہلے نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں!؟ ورنہ آثار یہی بتا رہے ہیں کہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی شہر فرخندہ کی روشن داستانوں میں۔اب تم کس کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہو! تمہیں خود ہی اٹھنا ہو گا تمہاری مدد کو نہ پہلے کوئی آیا تھا اور نہ اب کوئی مدد کو پہنچے گا صرف اللہ کے بھروسے اپنے جائز حقوق کی بازیابی کے لئے کمر بستہ ہوجائو۔