آرین نسل کے خوبرو نوجوانوں سے رغبت ۔ فرانس ‘ جرمنی اور اسپین کی خواتین کا 10 دن تا دو ہفتے قیام
حیدرآباد : یورپ سیر و تفریح کیلئے دنیا بھر میں منفرد مقام و حیثیت رکھتا ہے اور سیاح یورپ کو اولین ترجیح دیتے ہیں لیکن ان دنوں یوروپی ممالک کے عوام ’ لداخ ‘ کو اہمیت دے رہے ہیں ، لداخ میں یوروپی عوام بالخصوص یوروپی لڑکیوں کی دلچسپی نے ایک تحقیق کے بعد اس سیاحت کو ایک نیا نام دے دیا ہے ۔ جی ہاں ! اب لداخ میں یوروپی لڑکیوں کی سیر و تفریح و سیاحت نہیں بلکہ اولاد کی تلاش ہونے لگی ہے اور تحقیق کے بعد اس دلچسپی کو ’ پرگنینسی ٹورازم ‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ حالانکہ یوروپی لڑکیوں کی لداخ میں دلچسپی سال 2015ء سے جاری ہے لیکن ان دنوں سیر و تفریح کیلئے نئی شرائط اور احکامات کے بعد اس میں اضافہ ہوا ہے ۔ لداخ علاقہ میں آرین نسل کے افراد سے جنسی وابستگی اور ان کے ذریعہ اولاد کی خواہش میں اضافہ ہوگیا ۔ خوبرو خد و قامت ، رنگ و نسل کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ یوروپی لڑکیوں میں آرین نسل کی اولاد حاصل کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے اور وہ سیر و تفریح کے نام پر لداخ میں وقت گذار رہی ہیں ۔ 10دن لداخ کے آرین نسل کے لڑکو ں اور افراد کے ساتھ گذار کر یہ لڑکیاں اپنے ساتھ اپنے ملک نئی امید و اُمنگ لے جارہی ہیں ۔ یوروپی لڑکیوں کے اس رجحان اور خواہش پر سابق میں جو باتیں منظر عام پر آئی تھیں اس کی تحقیق بھی کی گئی ۔ کشمیر یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر منظور احمد خان نے اس پر تفصیلی رپورٹ بھی تیار کی تھی ۔ بوکھر طبقہ سے تعلق رکھنے والے یہ عوام اصل میں آرین ہیں ۔ لداخ کے 4 گاؤں میں ان کی آبادی پائی جاتی ہے ۔ دھہ ۔ بنو۔ دارچیک و گھرکھون) مواضعات میں بوکھر رہتے ہیں ۔ اس طبقہ کی خواتین زراعت کرتی ہیں جبکہ مرد انڈین آرمی کے کیمپس کے قریب مختلف کام کرکے کمائی کرتے ہیں جو علاقہ میں بوکھر طبقہ کی شناخت رکھتے ہیں ۔ عام طور پر کشمیری اور لداخ میں بسنے والے عوام کی مشابہت تبت اور منگولین سے ملتی ہے لیکن بوکھر طبقہ ان سے مختلف ہے اور اس طبقہ والوں کو حقیقی آرین کہا جاتا ہے اور ان دنوں آرین ذات والے افراد پر یوروپی باشندو ں کو زیادہ بھروسہ ہوتا ہے اور یہاں کے لڑکوں سے حمل کی خواہش ان میں بڑھ گئی ہے چونکہ یوروپی لڑکیاں خوبصورت آرین کو جنم دینا چاہتی ہیں ۔ ان چار مواضعات میں ان کی تعداد 2 ہزار تک پائی جاتی ہے ۔ ان کا تعلق موجودہ پاکستان کے گلگت سے ہے ۔ ان کے پُرکھوں کے مطابق سکندراعظم کی فوج کے ہمراہ یہ لوگ علاقہ میں پہنچے جو بتایا گیا ہے کہ کبھی سکندراعظم کی فوج کا حصہ رہے ۔ جب سکندر نے دنیا کے بڑے حصہ کو فتح کرلیا تھا ، تب وہ ہندوستان کی جانب بڑھنے لگا ۔ تاہم دریا سندھ کے قریب پہنچنے کے بعد اچانک اس کی صحت بگڑ گئی اور وہ واپس لوٹ گیا اور سکندر کی فوج کے چند فوجی لداخ میں قیام پذیر ہوگئے اور یہ لوگ آخری آرین کی شناخت رکھتے ہیں ۔ ان آرین نسل سے اولاد کی خواہش مند یوروپی لڑکیاں لداخ میں ایک تا دو ہفتے گذارنے کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہیں ۔ یوروپی ممالک بالخصوص فرانس ، جرمنی اور اسپین جیسے ممالک کی لڑکیوں میں جنون ، تعجب کا سبب بنا ہوا ہے چونکہ ان ممالک کی لڑکیو ں کی خوبصورتی دنیا بھر میں منفرد شناخت رکھتی ہیں ۔