برسلز: سانس کی بیماریوں میں مسلسل اضافہ کے ساتھ ہسپتالوں میں بستروں کی کمی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں دشواریاں بھی پیش آ رہی ہیں۔ یورپی یونین کے تمام ممالک میں اس وقت ’فلو‘ انفیکشن بڑی تشویش کا باعث ہے۔ کورونا وائرس اور ریسپائریٹری سنسیٹیئل وائرس کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد صحت کی فراہمی کے نظام پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ سانس کی بیماریوں میں مسلسل اضافہ۔ یورپ کے کئی ممالک میں حالیہ ہفتوں میں کووڈ، آر ایس وی اور سوائن فلو کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اٹلی بھی اس وقت سوائن فلو کے پھیلاؤ کے خطرے سے نمٹنے کی کوشش میں ہے۔ اسپین نے بھی احتیاطی تدابیر کا آغاز کرتے ہوئے ماسک پہننے کے نئے ضوابط متعارف کروا دیئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ سال دسمبر میں کورونا وائرس سے تقریباً دس ہزار اموات کی تصدیق کی ہے۔ یہ اموات زیادہ تر یورپی ممالک اور امریکہ میں ہوئیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈانہوم گیبریئس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں مختلف ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں بیالیس فیصد جبکہ انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں مریضوں کی تعداد میں باسٹھ فیصد اضافہ ہوا۔ یورپی یونین میں بیماریوں سے بچاؤ کے مرکز نے بھی یورپی ممالک میں انفلوئنزا جیسی سانس کی بیماری کی شرح میں اضافہ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
