برسلز: کورونا وبا کے کنٹرول کے لیے مختلف ملکوں میں ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک میں بھی ٹیکہ اندازی کا پروگرام شروع ہے۔ ایک ویکسین ایسٹرا زینیکا کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔یورپی یونین کے حلقے میں ایسٹرا زینیکا پر کی جانے والی شدید تنقید کی وجہ، اس دوا ساز ادارے کی جانب سے پہلی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہے۔ اس معاہدے کے تحت رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں ایسٹرا زینیکا نے یونین کے رکن ملکوں کے لیے ایک سو بیس ملین خوراکیں فراہم کرنا تھیں لیکن اینگلو سویڈش فارماسوٹیکل کمپنی نے کل مقدار کی جگہ صرف تیس ملین ٹیکے سپلائی کیے اور اس باعث ویکسین کو فراہمی میں تاخیر پیدا ہو گئی تھی۔یورپی یونین کے انٹرنل مارکیٹ کمیشنر تھیئری بریٹوں نے فرانسیسی ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فی الحال کچھ بھی حتمی طور پر طے نہیں کیا گیا کہ آیا ایسٹرا زینیکا ویکسین مزید خریدی جائے گی۔ انہوں نے اس تناظر میں یہ بھی کہا کہ اس وقت ترجیح اس پر ہے کہ کونسا دوا ساز ادارہ معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے ویکسین کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔
