حکومت کیخلاف سابق وزیر پرشانت ریڈی کی شدید تنقید، درکار مقدار میں یوریا کی فراہمی کا مطالبہ
نظام آباد۔ 12 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع نظام آباد کے بھیمگل منڈل میں یوریا کھاد کی شدید قلت کے باعث کسان سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔منڈل ہیڈکوارٹر پر واقع محکمہ ایگریکلچر کے دفتر میں صبح سے ہی کسان یوریا کے لئے طویل قطاروں میں کھڑے رہے لیکن آخرکار عہدیداروں نے یوریا اسٹاک ختم ہوچکا ہے کہہ کر سب کو مایوس کردیا۔ اس صورتحال نے کسانوں میں شدید بے چینی ناراضگی پیدا کردیا۔بی آرایس قائدین نے اس مسئلہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی کی زیر قیادت کانگریس حکومت کسانوں کو بے حال بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک یوریا تھیلے کے حصول کے لئے کسانوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یوریا فراہم نہ کرسکنے والی حکومت کو اقتدار پر رہنے کا کوئی حق نہیں‘‘۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کے۔سی۔آر حکومت کے دور میں کسانوں کو بروقت بیج اور کھاد فراہم کی جاتی تھی اور انہیں عزت و وقار کے ساتھ سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں، لیکن موجودہ حکومت کے دور میں حالات اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ کسان پرانے دنوں کی طرح ذلت آمیز صورتحال سے گزرنے پر مجبور ہیں۔کسانوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بلیک مارکیٹ میں یوریا بوری پانچ سو تا چھ سو روپئے میں فروخت کی جارہی ہے جس سے ان پر مزید مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس مسئلہ پر سابق وزیر و رکن اسمبلی پرشانت ریڈی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ یوریا کے لئے کسانوں کو دفاتر کے چکر لگانے اور قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے لیکن حکومت کوئی سنجیدہ قدم نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی۔آر۔ایس دورِ حکومت میں یوریا کی قلت کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ پرشانت ریڈی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ضلع میں مطلوبہ مقدار میں یوریا کھاد فراہم کی جائے، بصورت دیگر کسانوں کا غصہ سنگین عوامی ردعمل کی شکل اختیار کرلے گی۔