حکومت تلنگانہ کی ناکامی پر داخل کردہ درخواست پر سماعت ، 25 جنوری کو اگلی سماعت مقرر
حیدرآباد۔17جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں یومیہ ایک لاکھ کورونا وائرس کے معائنوں کو یقینی بنایا جائے اور آرٹی پی سی آر کے علاوہ ریاپڈ اینٹی جین معائنوں کی علحدہ تفصیلات پیش کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس این تکا رام جی نے ریاست میں کورونا وائرس کے معائنوں اور کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات میں ریاستی حکومت کی ناکامی پر داخل کی گئی درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کی آئندہ سماعت جو 25جنوری کو منعقد ہوگی اس موقع پر محکمہ صحت اور حکومت کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کے لئے کئے جانے والے تمام اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔چیف جسٹس ستیش چندر شرمااور جسٹس این تکا رام جی نے مقدمہ کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق تفصیلات دریافت کی جس پر ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو اب تک کئے جانے والے اقدامات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے 30جنوری تک تعلیمی اداروں کو تعطیلات کا اعلان کیا جاچکا ہے اور عدالت کے سابقہ احکامات کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کی جا رہی ہے علاوہ ازیں ٹیکہ اندازی اور معائنوں میں تیزی لائی جاچکی ہے۔ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو ریاستی کابینہ کے اجلاس میں کئے جانے والے امکانی فیصلوں کے سلسلہ میں بھی واقف کروایا جس پر عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے تمام فیصلہ اور ان پر عمل آوری کے متعلق تفصیلی رپورٹ 25جنوری کو عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے حکومت اور محکمہ صحت کو جاری کردہ ہدایت میں واضح کیا کہ حکومت تلنگانہ میں یومیہ ایک لاکھ کورونا وائرس کے معائنوں کو یقینی بنائے اور آرٹی پی سی آر کے علاوہ ریاپڈ اینٹی جین معائنوں کی علحدہ علحدہ تفصیلات کی اجرائی کے اقدامات کرے۔عدالت نے ماسک کے استعمال کے لزوم کے علاوہ سماجی فاصلہ کے اصولوں پر سختی سے عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ متعدد انتباہ اور ہدایات کے باوجود ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلہ کی برقراری کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے ریاستی حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کئے جانے کے متعلق عدالت کو یقین دہانی کروائی۔م