یونیورسٹیز کے مخلوعہ جائیدادوں پر اندرون چار ماہ تقررات کریں: سپریم کورٹ

   

مرکز کا ریاستوں کو مکتوب، تلنگانہ میں 2125 تدریسی عہدے مخلوعہ، آرٹیکل 142 کے تحت عدالت عظمیٰ کے سخت احکامات
حیدرآباد ۔16 ۔ فروری (سیاست نیوز) ریاست کی سرکاری یونیورسٹیوں میں تدریسی جائیدادوں کی طویل عرصہ سے خالی پڑی نشستوں پر تقررات کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے تناظر میں مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ سرکاری و خانگی یونیورسٹیوں میں فیکلٹی کی مخلوعہ جائیدادوں کو اندرون 4 ماہ پُر کردیں۔ سپریم کورٹ نے دستور کے آرٹیکل 142 کے تحت احکامات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر التواء تقررات کے معاملہ کو مزید ٹالا نہیں جاسکتا۔ مرکزی وزارت تعلیم نے لوک سبھا میں 15 جنوری کو جاری فیصلہ کی نقول تمام ریاستی حکومتوں ، یونیورسٹیوں اور ریگولیٹری اداروں کو روانہ کردی ہے۔ مرکز نے یہ بھی واضح کیا کہ یونیورسٹیز میں تقررات کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ تلنگانہ کی 11 یونیورسٹیوں میں مجموعی طور پر 2878 تدریسی جائیدادوں کے مقابلہ میں صرف 753 فیکلٹی خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ تقریباً 2125 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے بشمول کئی یونیورسٹیز میں کنٹراکٹ اور پارٹ ٹائم لکچررس کے سہارے تعلیمی سرگرمیاں چلائی جارہی ہیں۔ گز شتہ بی آر ایس حکومت کے دور میں تقررات کا عمل شروع تو کیا گیا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر اسے موخر کردیا گیا تھا ۔ کانگریس حکومت کے قیام کے بعد بھی صورتحال میں خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوسکی۔ محکمہ تعلیم کے حلقوں میں اس وقت یہ سوال زیر بحث ہے کہ تقررات کی فائل کہاں رکی ہوئی ۔ یونیورسٹیوں میں مخلوعہ جائیدادوں کا مکمل ڈیٹا محکمہ تعلیم کو موصول ہوچکا ہے اور گورننگ باڈیز نے بھی منظوری دے دی ہے ۔ سینئر حکام کے مطابق محکمہ فینانس سے بھی کلیئرنس حاصل ہوچکی ہے ۔ تاہم نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ ہر اجلاس میں بتایا جارہا ہے کہ فائل چیف منسٹر کے دفتر میں ہے اور دستخط کے بعد ہی تقررات کا عمل آگے بڑھ پائے گا لیکن یہ ابھی واضح نہیں ہوا ہے کہ فائل چیف منسٹر کے دفتر میں ہے یا محکمہ تعلیم کے پاس زیر التواء ہے، اس کی وضاحت نہیں ہوپارہی ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنے اداروں میں ’’مشن موڈ‘‘ کے تحت تقررات کے عمل کو تیز کردیا ہے۔ CU Chayan پورٹل کے ذریعہ سنٹرل یونیورسٹیز ، آئی آئی ٹیز اور این آئی ٹیز میں اکتوبر 2025 تک تقریباً 29,979 جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جن میں 17,494 فیکلٹی عہدے شامل ہیں۔ تاہم مرکز نے کہا ہے کہ ریاستی یونیورسٹیز میں تقررات کا عمل اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ تلنگانہ کی کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسرس کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ کاکتیہ ، مہاتما گاندھی ، ساتا واہنا ، پالمور ، تلگو یونیورسٹی ، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی اور آر جی یو کے ٹی جیسی یونیورسٹیز میں باقاعدہ پروفیسرس کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ بعض یونیورسٹیز میں تو ایک بھی مستقل پروفیسرس یا اسوسی ایٹ پروفیسرس موجود نہیں ہے ۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر جلد نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تو تدریسی معیار اور تحقیقی سرگرمیاں مزید متاثر ہوگی۔ سپریم کورٹ کے سخت موقف اور مرکزی ہدایت کے بعد اب ریاستی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ چار ماہ کی مدت میں تقررات کا عمل مکمل کریں۔ یونیورسٹی حلقوں میں توقع کی جارہی ہے کہ حکومت جلد واضح لائحہ عمل پیش کرے گی تاکہ برسوں سے زیر التواء تقررات کا مسئلہ حل ہوسکے۔2