یوپی میں آبادی پالیسی کا اعلان، آبادی میں اضافہ ترقی میں رکاوٹ :چیف منسٹر

   

لکھنو: اترپردیش کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے اتوار کو اترپردیش کی نئی آبادی پالیسی کے مسودے کو لانچ کردیا ہے۔ اس دوران آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت جو نئی آبادی پالیسی لے کر آئی ہے، اس سے معاشرے کے ہر طبقے کو عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آبادی کنٹرول کے لئے بیداری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو آبادی پالیسی حکومت لے کر آئی ہے، اس سے معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔ چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی کنٹرول پر گزشتہ چار دہائیوں سے بحث ہو رہی تھی۔ ملک کی غریبی کی ایک اہم وجہ آبادی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی آبادی پالیسی حکومت لے کر آئی ہے، اس میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی چیف منسٹر نے کہا کہ دو بچوں کے درمیان فرق بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو بچوں کی پیدائش میں فرق نہ ہونے کی وجہ سے غذائی قلت کا خطرہ بھی بنا رہتا ہے۔یوگی حکومت نے نئی آبادی پالیسی کا جو مسودہ تیار کیا ہے، اگر یہ نافذ ہوجاتا ہے تو یہ مجوزہ قانون گزٹ شائع ہونے کے ایک سال بعد نافذ ہوجائے گا۔ یعنی 2022 سے ریاست میں 2030 تک کے لئے نئی آبادی پالیسی نافذ رہے گی۔ حکومت کے ذریعہ تیار کئے گئے مسودے میں آبادی کنٹرول میں مدد کرنے والوں کو اعزاز سے سرفراز کرنے کا التزام ہے، ساتھ ہی اسے نہ ماننے والوں کے لئے کئی سہولیات سے محروم کرنے کا بھی التزام ہے۔موجودہ مسودہ میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی قانون کے نافذ ہونے کے بعد دو بچے کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، اسے حکومت کے ذریعہ چلائی جارہی سبھی فلاحی اسکیموں کے فائدے سے محروم کردیا جائے گا، وہ مقامی بلدیہ کے لئے الیکشن نہیں لڑسکتا، ریاستی حکومت کے تحت سرکاری نوکریوں کے لئے درخواست دینے کا اہل نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کو سرکاری نوکری میں پرموشن بھی نہیں ملے گا۔ ڈرافٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کا راشن کارڈ چار اراکین تک محدود رہے گا اور وہ کسی بھی طرح کی سرکاری سبسڈی بھی نہیں لے سکے گا۔