یوگی حکومت میں شدید فرقہ پرستی، تعصب اور تنگ نظری ۔فوری سدباب ضروری۔ سابق بیوروکریٹس کا کھلا مکتوب
لکھنؤ : سابق بیوروکریٹس اور پولیس عہدیداروں کے 74 رکنی گروپ نے آج ایک کھلا مکتوب تحریر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اترپردیش میں حکمرانی پوری طرح مفلوج ہوچکی ہے اور قانون کی حکمرانی کے معاملہ میں صریح خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ اِس مکتوب کو زائداز 200 ممتاز شہریوں نے اپنی تائید و حمایت پیش کی ہے۔ 4 صفحات پر مشتمل مکتوب میں آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس عہدیداروں نے کہاکہ من مانی فیصلے ہورہے ہیں اور پرامن احتجاجیوں پر پولیس حملے کررہی ہے، اُنھیں زدوکوب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سابق اعلیٰ عہدیداروں نے مطالبہ کیاکہ ماورائے قانون ہلاکتوں کا خاتمہ کیا جائے، لو جہاد کے نام پر مسلم نوجوانوں کو غیرضروری قانون کے شکنجہ میں کسنے کا سلسلہ روکا جائے۔ قومی سلامتی قانون کا گاؤکشی روکنے کے نام پر بیجا استعمال ہورہا ہے جسے فوری روکنا چاہئے۔ مکتوب میں کوویڈ بحران کا بھی تذکرہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ریاست میں کورونا وباء سے مناسب انداز میں نہیں نمٹا گیا، اموات کا کوئی حساب نہیں اور ہیلت کیئر سسٹم ناکام ہوچکا ہے۔ سابق عہدیداروں نے اپنے مکتوب میں کہاکہ یوپی میں موجودہ اقتدار کے تعلق سے ہم تمام لوگوں کو آگاہ کردینا چاہتے ہیں کہ اس طرح کی حکمرانی کسی بھی طرح ٹھیک نہیں اور یہ آگے چل کر نراج کی کیفیت اختیار کرلے گی۔ دستور کے اقدار کا اب کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے اور قانون کی حکمرانی ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نظم و نسق بشمول عاملہ و عدلیہ کی تمام شاخیں بکھر چکی ہیں۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ فوری روک تھام نہیں کیا گیا اور سدباب کے اقدامات نہیں کئے گئے تو نظام حکومت اور ریاست کے تمام اداروں کو بُری طرح نقصان پہونچے گا جو جمہوریت کی تباہی کا موجب بنے گا۔ مکتوب میں ہر عنوان کے تحت ڈیٹا اور مثالیں فراہم کئے گئے۔ کیرالا کے جرنلسٹ صدیق کپن کے کیس کا تذکرہ بھی ہے جس کے ساتھ کہا گیا کہ پرامن احتجاجیوں کے خلاف بلاوجہ سخت کارروائی کی جارہی ہے۔ صدیق کو ہاتھرس میں دلت کی سفاکانہ اجتماعی عصمت ریزی کی رپورٹنگ پر حکومتی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ صدیق اب تک جیل میں زائداز 200 دن گزار چکا ہے لیکن نہ اُس کے خلاف کوئی ثبوت پیش کیا جاسکے اور نہ اُس کی رہائی ہورہی ہے۔ کورونا وباء کے تناظر میں یوپی کا ہیلت کیئر سسٹم بُری طرح ناکام ہوگیا، اِس کی خامیاں سامنے آئی ہیں۔ ریاست میں آئندہ سال مقررہ اسمبلی انتخابات کی نشاندہی کرتے ہوئے مکتوب میں دعویٰ کیا گیا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یوپی کی موجودہ حکومت مسلمانوں کے خلاف تعصب کے ساتھ کام کرتی رہی ہے جو جگ ظاہر ہے۔ آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے یوپی حکومت حالیہ عرصہ میں پھر ایک بار فرقہ پرستانہ اقدامات شروع کرچکی ہے تاکہ ہندو اور مسلم کے درمیان خلیج کو بڑھایا جاسکے، فرقہ پرستی میں شدت پیدا کی جاسکے۔
2 مبینہ دہشت گردوں کا ریمانڈ
یو پی اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ جس نے اتوار کو لکھنؤ کے مضافات سے دو مبینہ دہشت گردوں نصیرالدین اور منہاج انصاری کو گرفتار کیا تھا، پیر کو اُنھیں چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے اُن کو 14 روزہ پولیس تحویل میں بھیج دیا۔