یوپی میں پرینکا گاندھی گرفتار، گیسٹ ہاؤز کو منتقلی

,

   

کانگریس پارٹی نے گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاج کیا

لکھنؤ ؍ نئی دہلی 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کی لیڈر پرینکا گاندھی وڈرا کو آج سون بھدرا روانہ ہونے سے روک دیا گیا اور ایک گیسٹ ہاؤز کو منتقل کردیا گیا۔ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ اس علاقہ کو روانہ ہورہی تھیں جہاں گزشتہ ہفتہ 10 افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ پرینکا گاندھی کے ساتھ موجود حامیوں نے اصرار کیاکہ اُنھیں اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ سون بھدرا شوٹنگ واقعہ ایک تلخ سیاسی تنازعہ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کے بشمول ان کی پارٹی کے کئی قائدین نے کہا ہے کہ اُنھیں (پرینکا کو) غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے اور حکومت اترپردیش دراصل جمہوریت کو کچلنے کی کوشش کررہی ہے۔ تاہم مقامی پولیس عہدیداروں نے کہاکہ اُنھیں ضلع مرزا کے نارائن پور علاقہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس مسئلہ پر بحث چھڑ جانے کے بعد اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے انصاف کا وعدہ کیا اور کہاکہ سب ڈیویژنل مجسٹریٹ اور دیگر چار عہدیداروں کو شوٹنگ کے واقعہ کے ضمن میں معطل کردیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں گاؤں کے مکھیہ یگیہ دت اور اس کے بھائی سمیت 29 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری (ریونیو) کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اندرون 10 یوم رپورٹ پیش کرے گی۔ پرینکا گاندھی واراناسی پہونچنے کے بعد بی ایچ یو ہاسپٹل پہونچ کر زخمیوں کی عیادت کی۔ بعدازاں سون بھدرا کے گھوڈا والا علاقہ کی طرف روانہ ہورہی تھیں جہاں یگیہ دت کے حامیوں نے قبائیلیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس میں 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس کی طرف سے روک دیئے جانے کے بعد پرینکا اس مقام پر دھرنا دے رہی تھیں کہ اُنھیں چونار گیسٹ ہاؤز منتقل کردیا گیا۔ ضلع سون بھدرا کے گھوڑا وال علاقہ میں امتناعی احکام نافذ کردیئے گئے ہیں۔ گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ عوام کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جارہی ہے۔نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب پرینکا گاندھی کی پارٹی نے اپنی لیڈر کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرہ منظم کئے۔ لکھنؤ سے موصولہ اطلاع کے بموجب پورے یوپی میں کانگریس کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ کولکاتا سے موصولہ اطلاع کے بموجب مغربی بنگال کانگریس نے بھی ریاست میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے منظم کئے جبکہ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب جموں و کشمیر کانگریس نے پرینکا کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے احتجاجی مظاہرے منظم کئے۔

پرینکا گاندھی کی کارروائی سے اندراجیسی حساسیت ثابت : ایم پی کانگریس
بھوپال 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پرینکا گاندھی کے اِس فیصلے سے کہ وہ قبائیلیوں سے سون بھدرا (اترپردیش) ملاقات کریں گی، ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنی دادی اندرا گاندھی کی طرح ایک حساس شخصیت ہیں۔ مدھیہ پردیش کانگریس کی ترجمان شوبھا اوزا نے اِس کا ادعا کیا۔ پرینکا گاندھی کو پولیس نے جمعہ کے دن اُس وقت گرفتار کرلیا جبکہ وہ قبائیلیوں سے ملاقات کے لئے جن کا مبینہ طور پر اراضی مافیا نے قتل عام کیا تھا، جارہی تھیں۔ اوزا کانگریس کے شعبہ مواصلات کی صدرنشین ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پرینکا گاندھی کے تیز رفتار ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اندرا گاندھی جیسی حساس شخصیت ہیں۔ اُنھوں نے یاد دہانی کی کہ اندرا گاندھی نے بھی ایسے ہی حالات میں بہار کے علاقہ بیلچی کا دورہ کیا تھا جبکہ کئی افراد کے قتل عام کا سانحہ پیش آیا تھا اور مہلوکین کے ورثاء سے ملاقات کی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ جس طرح پرینکا گاندھی کو روکا گیا اور گرفتار کرلیا گیا اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت یوپی میں ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوگئی ہے۔ اوزا نے الزام عائد کیاکہ پرینکا گاندھی وڈرا کی گرفتاری غیرقانونی ہے۔ پرینکا گاندھی کو مشرقی یوپی کے کانگریس اُمور کی انچارج مقرر کیا گیا ہے۔