سولنا ۔25 اگست (ایجنسیز) اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی تازہ ترین رپورٹ نے عالمی سطح پر ہتھیاروں کی درآمدات کی صورتحال کو واضح کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2020 سے 2024 تک کے عرصے میں یوکرین دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کرنے والا ملک رہا، جبکہ ہندوستان دوسرے نمبر پر رہا۔ روس کے ساتھ جاری جنگ نے یوکرین کو اس فہرست میں پہلے مقام پر پہنچا دیا ہے۔ یوکرین نے گزشتہ پانچ برسوں میں عالمی سطح پر ہتھیاروں کی جملہ درآمدات میں 8.8 فیصد حصہ حاصل کیا۔ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ اور یورپی اتحادیوں کی جانب سے یوکرین کو بڑے پیمانے پر فوجی امداد اور جدید ہتھیار فراہم کیے گئے۔ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی ہتھیاروں کی خریداری میں ہندوستان 8.3 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس دوران ہندوستان کی مجموعی درآمدات میں 9.3 فیصد کمی آئی۔ یہ کمی دراصل ہندوستان کی دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت میک اِن انڈیا منصوبے کو فروغ دیتے ہوئے ملکی سطح پر ہتھیاروں اور فوجی ٹیکنالوجی کی تیاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ہندوستان کی دفاعی خریداری کی تاریخ میں روس ہمیشہ ایک بڑا شراکت دار رہا ہے۔ 2015 سے 2019 کے دوران ہندوستان کی روس سے درآمدات کا حصہ تقریباً 55 فیصد تھا، لیکن 2020 سے 2024 کے درمیان یہ گھٹ کر36 فیصد رہ گیا۔ اس کمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان نے اپنی خریداری کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا ہے۔ اب فرانس، اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک سے بھی بڑی مقدار میں ہتھیار اور ٹیکنالوجی حاصل کی جا رہی ہے۔ فرانس اور اسرائیل نے حالیہ برسوں میں ہندوستان کو جدید فضائیہ اور میزائل سسٹمز فراہم کیے، جب کہ امریکہ سے بھی دفاعی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح ہندوستان بتدریج صرف روس پر انحصار کرنے کے بجائے کثیر جہتی دفاعی شراکت داری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان کے بعد قطر اور سعودی عرب تقریباً 6.8 فیصد حصے کے ساتھ بڑے درآمد کنندگان کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنی فضائیہ اور میزائل دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر ہتھیار خریدے۔ پاکستان نے بھی 4.6 فیصد کے ساتھ پانچوا مقام حاصل کیا ۔ پاکستان زیادہ تر چین سے ہتھیار درآمد کرتا ہے، جن میں لڑاکا طیارے، ڈرون اور میزائل سسٹمز شامل ہیں۔ جہاں ایک طرف ہندوستان کی درآمدات میں کمی دیکھی گئی، وہیں دوسری طرف اس کی دفاعی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ برس ہندوستان نے تقریباً 23,500 کروڑ روپے مالیت کے ہتھیار برآمد کیے اور اب دنیا کے 92 ممالک ہندوستانی فوجی سازوسامان استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت نے ہدف مقررکیا ہے کہ 2029 تک دفاعی برآمدات کو دوگناکر کے 6 بلین ڈالر تک لے جایا جائے۔ عالمی سطح پر ہتھیاروں کی مارکیٹ میں یوکرین اور ہندوستان نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ خلیجی ممالک قطر اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہیں۔