یوکرین میں شہریو ں کی بڑھتی ہلاکتو ں پر امریکہ کا انتباہ

   

واشنگٹن : روس کے یوکرین پر حملوں میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر امریکہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ ’ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کی تعداد میں شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔‘امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کی انسانی قیمت پہلے ہی زیادہ ہے۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکری اہداف کے علاوہ بھی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔امریکہ نے جنگ کے انسانی نقصان کے حوالے سے ایسے وقت پر خبردار کیا ہے جب گزشتہ روز روس نے اعتراف کیا تھا کہ یوکرین کی جنگ میں اب تک 498 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یوکرینی عہدیداروں کے خیال میں اصل اعداد و شمار اس سے زیادہ ہیں۔اس سے قبل جمعرات کو مقامی حکام نے تصدیق کی تھی کہ روسی افواج نے یوکرین کے شہر خیرسن پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایک ہفتہ قبل ماسکو کے حملے کے بعد یہ پہلا بڑا شہری مرکز ہے جس کا کنٹرول روس نے سنبھال لیا ہے۔علاقائی انتظامیہ کے سربراہ نے میسجنگ سروس ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’(روسی) قابض شہر کے تمام حصوں میں موجود ہیں اور بہت خطرناک ہیں۔‘بحیرہ اسود کے قریب 290,000 لوگوں پر مشتمل سٹریٹجک بندرگاہی شہر اس وقت محاصرے میں آگیا جب روسی افواج نے دوسرے شہری مراکز پر اپنی جارحیت کو آگے بڑھایا۔بندرگاہی شہر کے میئر ایگور کولیکھائیف نے ’مسلح مہمانوں‘ کے ساتھ بات چیت کا اعلان کیا تھا۔ایگور کولیکھائیف نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے اور نہ ہی ہم جارحانہ تھے۔ ہم نے دکھایا کہ ہم شہر کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور حملے کے نتائج سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔