ہم اس لڑائی کو آخر تک لڑنے تیار ہیں، یوم توقیر و آزادی کے موقع پر زیلنسکی کا یوکرینی عوام کو خراج تحسین
کیف : یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے یوکرین پر روسی حملے کے نو ماہ مکمل ہونے پر روسی فورسز کے خلاف مزاحمت پر اپنی قوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز یوکرین میں منائے جانے والے ’یوم توقیر و آزادی‘ کے موقع پر روس کے خلاف یوکرینی عوام کی مزاحمت پر خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ ہم اپنا سب کچھ نچھاور کرنے تیار ہیں، ہم اس لڑائی کو آخر تک لڑنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ یوکرین نے آزادی کی ایک بھاری قیمت ادا کی ہے اور وہ یہ قیمت آئندہ بھی ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اپنے ویڈیو میسیج میں مزید کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ یوکرینی عوام کیا کچھ کرنے کے قابل ہیں، ”دنیا نے دیکھا کہ ہم کیسے دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک کے خلاف مزاحمت کر کے دنیا کی سب سے بہترین فوجوں میں سے ایک بن سکتے ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ روسی حملے کے بعد لاکھوں یوکرینی شہریوں نے جان بچانے کیلئے ملک سے نکلنے کی بجائے اپنے ملک میں ٹھہرنے اور یوکرین کی حفاظت کا عزم ظاہر کیااور یوں اپنے خالی ہاتھوں کے ساتھ بموں اور گولیوں کی پروا کیے بغیر روسی فوج کے سامنے ڈٹ گئے۔‘‘یوکرینی تفتیش کاروں کا کہنا ہیکہ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجہ میں اب تک مجموعی شہری ہلاکتیں آٹھ ہزار تین سو سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اتوار کے روز دارالحکومت کیف میں اٹارنی جنرل اندری کوسٹن نے کہا کہ ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں 437 بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ نو ماہ سے جاری اس لڑائی میں اب تک 11 ہزار سے زائد عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد ان اندازوں سے زائد ہو سکتی ہے، کیوں کہ اب تک یوکرینی حکام کو روس کے زیرقبضہ علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ واضح رہے کہ روس اب تک یوکرین پر قریب 4700 میزائل داغ چکا ہے۔اطالوی وزیردفاع گیڈو کروسیتو نے کہا ہے کہ وہ سال 2023 میں یوکرین کیلئے عسکری اور سویلین مدد جاری رکھنے سے متعلق ایک نئے قانون کو پارلیمان میں پیش کرنے جا رہے ہیں۔ روم حکومت کو اس وقت یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ پارلیمانی منظوری کے بغیر یوکرین کو مدد بھیج سکتی ہے، تاہم اس مینڈیٹ کی مدت رواں برس کے اختتام پر پوری ہو رہی ہے۔ اطالوی وزیردفاع کے مطابق نئے قانون میں اس اختیار کی مدت کو اگلے برس کے اختتام تک وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اٹلی یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی جاری رکھے گا اور اس سلسلے میں ناٹو اتحادیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہا جائے گا۔