یوکرینی صدر کا دورہ جرمنی، بھاری فوجی امدادکا تیقن

,

   

برلن:ولادیمیر زیلنسکی نے ایسے موقع پر جرمنی کا دورہ کیا ہے جب یوکرین روسی افواج کے خلاف جوابی کارروائی کی تیاریاں کر رہا ہے جن کا آغاز ممکنہ طور پر آئندہ چند دنوں میں کیا جائے گا۔جرمنی کے دورے سے قبل ہفتہ کو صدر زیلنسکی نے اٹلی میں سیاسی رہنماؤں اور مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس سے ملاقاتیں کی تھیں۔یوکرینی فوج اپنے جوانوں کو ٹریننگ فراہم کر رہی ہے اور مغربی ممالک کی جانب سے دیے گئے ہتھیار ذخیرہ کر رہی ہے جو تجزیہ کاروں کے خیال میں روس کے قبضے سے اپنے علاقے واپس لینے میں اہم ثابت ہوں گے۔روس کے حملے کے بعد سے یوکرین کو ٹینک، راکٹ اور میزائل شکن سسٹم فراہم کرنے میں جرمنی پیش پیش رہا ہے۔جرمنی میں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے صدارتی محل میں اپنے ہم منصب فرانک والٹر شٹائن سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے چانسلر اولاف شولس سے ملاقات کی۔ولادیمیر زیلنسکی کا مغربی جرمن شہر آخن کا دورہ بھی متوقع ہے جہاں انہیں اور یوکرینی عوام کو یورپی اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں شارلیمین اعزاز سے نوازا جائے گا۔یورپی کمیشن کی صدر ارسلا ڈر لیئن اور پولینڈ کے وزیراعظم بھی آخن میں ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے۔ہفتہ کو جرمنی نے کہا تھا کہ وہ یوکرین کو آئرس ٹی اینٹی میزائل سسٹم کے لیے مزید گولہ بارود اور لانچرز سمیت 30 اضافی لیپرڈ ون ٹینک، ایک سو سے زائد بکتر بند جنگی گاڑیاں اور 200 سے زائد نگرانی کرنے والے ڈرون فراہم کرے گا۔