یکساں سیول کوڈ بل پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پیش نہیں ہوگا

   

لا کمیشن میں رائے پیش کرنے 28 جولائی تک مہلت، پارلیمنٹ سیشن کا کل آغاز، بی جے پی کو حلیفوں کی ناراضگی کا سامنا
حیدرآباد: 18 جولائی (سیاست نیوز) یکساں سیول کوڈ پر نریندر مودی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں ہوّا کھڑا کرنے کے باوجود پارلیمنٹ مانسون سیشن میں یکساں سیول کوڈ بل کی پیشکشی ممکن نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر بی جے پی حکومت کو ایک طرف حلیف جماعتوں کی ناراضگی کا سامنا ہے تو دوسری طرف مختلف طبقات کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کی شدت سے مخالفت نے صورتحال کو الجھاکر رکھ دیا ہے۔ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 20 جولائی سے شروع ہورہا ہے جبکہ لا کمیشن نے یکساں سیول کوڈ پر عوام سے رائے حاصل کرنے آخری تاریخ 28 جولائی مقرر کی ہے۔ ان حالات میں مودی حکومت کیلئے لا کمیشن سے سفارشات حاصل کرنا اور بل کا مسودہ تیار کرنا جلد بازی میں ممکن نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی نے حلیف جماعتوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے یکساں سیول کوڈ پر عجلت کے بجائے مشاورت کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لا کمیشن کو تاحال 50 لاکھ سے زائد افراد نے یکساں سیول کوڈ پر اپنی رائے روانہ کی ہے۔ 28 جولائی تک امید کی جارہی ہے کہ مزید 20 تا 25 لاکھ افراد اپنی رائے کمیشن کو روانہ کریں گے۔ آخری تاریخ گزرنے کے بعد لا کمیشن کو 75 لاکھ افراد کی رائے کی جانچ اور تائید، مخالفت اور غیر جانبدار رائے کو علیحدہ کرنے میں وقت لگ جائے گا۔ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 11 اگست تک جاری رہے گا اور لا کمیشن کیلئے ممکن نہیں کہ 11 اگست تک 75 لاکھ افراد کی رائے کا جائزہ لے کر حکومت کو سفارشات روانہ کرے۔ ان حالات میں پارلیمنٹ کا مانسون سیشن یکساں سیول کوڈ کے بل کی پیشکشی کے بغیر ختم ہوجائے گا اور مسلمانوں اور دیگر طبقات میں بے چینی کسی حد تک کم ہو پائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بھوپال میں یکساں سیول کوڈ کے حق میں قانون سازی کے اشارے کے بعد این ڈی اے کی بعض حلیف جماعتوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ حلیف جماعتوں کو شکایت ہے کہ اہم ترین مسائل پر بھی حکومت ان سے مشاورت نہیں کررہی ہے۔ یکساں سیول کوڈ جو تمام مذاہب کے لیے اہمیت کا حامل ہے، اس کے نفاذ پر حلیف جماعتوں سے مشاورت کی جانی چاہئے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کا اجلاس طلب کیا ہے۔ حلیف جماعتوں کے علاوہ اپوزیشن کو بھی مودی حکومت سے یہی شکایت ہے کہ قومی مسائل پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ لا کمیشن نے رائے حاصل کرنے کے لیے 28 جولائی تک جو توسیع کی ہے، اس میں مرکزی حکومت کا اہم ترین دخل دکھائی دے رہا ہے۔ مودی حکومت نے جلد بازی کے ذریعہ حلیف جماعتوں کی مخالفت سے بچنے کے لیے مانسون سیشن کو متنازعہ یکساں سیول کوڈ بل کے بغیر ختم کرنے کا من بنالیا ہے۔ لا کمیشن کو لاکھوں افراد کی رائے کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرنے میں کم سے کم 3 ماہ کا وقت لگ جائے گا۔ ایسے میں مرکزی حکومت سرمائی سیشن میں یکساں سیول کوڈ بل پیش کرنے کی مساعی کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کی شدت سے مخالفت کی جارہی ہے اس کے علاوہ نارتھ ایسٹ کی ریاستوں سے مخالفت شروع ہوچکی ہے۔ ملک میں قبائل اور سکھوں نے بھی یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ حکومت میں شامل بعض وزراء اور بی جے پی کے سرکردہ قائدین نے قبائل کو یکساں سیول کوڈ سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے بل کی تیاری میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے اس بارے میں کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مخصوص قبائل کو استثنیٰ دیا جائے تو پھر ایک ملک ایک قانون کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہوگا اور یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا کوئی مقصد باقی نہیں رہے گا۔ 2018ء میں لا کمیشن نے یکساں سیول کوڈ کے خلاف مرکزی حکومت کو رائے پیش کی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ کمیشن عوامی رائے کے مطابق سفارشات پیش کرے گا یا پھر مرکزی حکومت کی مرضی اور خواہش کے مطابق رپورٹ پیش کی جائیگی۔ ر