کے ٹی آر کے ٹوئیٹ کے جواب میں نامعلوم شخص نے انکاؤنٹر کا طریقہ بتایا
حیدرآباد۔/7 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کیا پولیس نے یکم ڈسمبر کو دشا قتل کے ملزمین کو انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کا منصوبہ بنالیا تھا ؟ ۔ ٹوئٹر پر ایک نامعلوم اکاؤنٹ سے یکم ڈسمبر کو کئے گئے ٹوئیٹ سے سوشیل میڈیا میں اس طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پولیس نے اپنے منصوبہ کا پہلے ہی اظہار کردیا۔ واضح رہے کہ کونا فیان کلب کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے یہ ٹوئیٹ یکم ڈسمبر کو کیا گیا جس میں پولیس کو انکاؤنٹر کے سلسلہ میں رہنمائی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ اب غیر کارکرد ہوچکا ہے۔ اس ٹوئیٹ میں حکومت کو بروقت انصاف فراہم کرنے کیلئے طریقہ کار بتایا گیا۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کے ٹوئیٹ کے جواب میں یہ ٹوئیٹ کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا کہ ’’ سر ! اگر آپ چاہتے ہیں تو خاطیوں کو سزا دے سکتے ہیں، انہیں جرم کے مقام پر لے جایا جائے تاکہ دشا کو جلائے جانے کے واقعہ کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ مجھے یقین ہے کہ ملزمین بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ پولیس کے پاس انہیں گولی مارنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ برائے مہربانی اس پر غور کریں۔‘‘ اس ٹوئیٹ سے کچھ دیر قبل کے ٹی آر نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ سازشیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے لیکن میں حیران ہوں کہ متاثرہ خاندان کو کس طرح انصاف دیا جائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا تھا کہ دشا کے انصاف میں تاخیر انصاف سے محرومی کے مترادف ہے۔ اب جبکہ پارلیمنٹ کا سیشن جاری ہے میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ پر ترجیحی بنیاد پر ایک دن طویل بحث ہو۔ کے ٹی آر کے ٹوئیٹ کے جواب میں انکاؤنٹر کے بارے میں رہنمائی کرتے ہوئے جو ٹوئیٹ آیا تھا اسی کے عین مطابق جمعہ کے دن 4 ملزمین کی پولیس انکاؤنٹر میں موت واقع ہوئی۔ سوشیل میڈیا پر اس ٹوئیٹ اور اس کے مطابق عمل آوری پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ٹوئیٹر پر ایک شخص نے ریمارک کیا کہ یہ ٹوئیٹ پولیس سے تعلق رکھنے والے شخص نے کیا جس میں منصوبہ کا اظہار کیا گیا۔