یہ سیاست ہے کوئی بھی کسی کے ساتھ جاسکتا

   

بی جے پی کی جانب سے مخلوط حکومت کا شوشہ، کئی چہ میگوئیاں، زعفرانی پارٹی اقتدار میں حصہ داری کی خواہاں

حیدرآباد۔22۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کے اقتدار میں حصہ داری کے لئے بی جے پی اور مجلس دونوں کے لئے بھارت راشٹرسمیتی نے راستہ ہموار رکھا ہوا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی بہرصورت میں 10تا15 نشستوں پر کامیابی کے حصول کے لئے کوشش کر رہی ہے تاکہ بھارت راشٹرسمیتی 50نشستوں پر محدود ہونے کی صورت میں بی آر ایس اور بی جے پی اتحاد کی حکومت بنائی جاسکے ۔ بھارت راشٹرسمیتی قائدین نجی گفتگو میں یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اگر بی آر ایس کو 55 نشستیں حاصل ہوتی ہیںتو ایسی صورت میں بی آر ایس مجلس کے ساتھ ملکر اقتدار حاصل کرلے گی اور اگر 10تا15نشستوں کی ضرورت پڑتی ہے تو بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد ہوسکتا ہے اسی لئے تلنگانہ میں کانگریس کو کسی بھی طرح سے 60 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے سے روکنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کی پہلی فہرست میں 3 ارکان پارلیمان کے ناموں کی شمولیت اور گوشہ محل رکن اسمبلی کی معطلی برخواست کرتے ہوئے اسے دوبارہ امیدوار بنائے جانے کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی ہر قسم کا حربہ اختیار کرنے کے لئے تیار ہے۔ ملعون راجہ سنگھ کی فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی سے ہر کوئی واقف ہے لیکن سوئم باپو راؤ رکن پارلیمنٹ عادل آباد نے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ مسلم نوجوانوں کے سرکاٹ دیں گے۔ انہیں بی جے پی نے حلقہ اسمبلی بوتھ سے امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دھرم پوری اروند اور بنڈی سنجئے بھی مسلسل مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے رہتے ہیں انہیں بھی پہلی فہرست میں اسمبلی انتخابات میں امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند کو حلقہ اسمبلی کورٹلہ سے امیدوار بنایا گیا ہے جبکہ بنڈی سنجے کو حلقہ اسمبلی کریم نگر سے امیدوار کے طور پر اتارا گیا ہے۔ ایٹالہ راجندر کو حلقہ اسمبلی حضور آباد سے امیدوار بنانے کے علاوہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف حلقہ اسمبلی گجویل سے امیدوار بنانے کافیصلہ کیا گیا ہے ۔ 2024 عام انتخابات سے قبل ریاست تلنگانہ کے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہوچکے ہیں اسی لئے بھارتیہ جنتا پارٹی بہر صورت ان انتخابات میں کانگریس کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے لئے اب یہ تاثر دیا جانے لگا ہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی سنجیدہ انتخابات میں حصہ لے گی۔ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی ہائی کمان نے جو نشانہ ریاستی بی جے پی کو دیا ہے وہ 12تا15 نشستوں کا ہے اور تلنگانہ بی جے پی قائدین کو کہا گیا ہے کہ وہ مخالف حکومت ووٹ کانگریس کے حق میں جانے سے روکنے کے لئے جدوجہد کریں۔بی جے پی کی ان کوششوں کے درمیان بھارت راشٹرسمیتی نے ریاست میں کسی بھی طرح سے اقتدار حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کے طور پر جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے مطابق اگر بی آر ایس کو 45تا50 نشستیں حاصل ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ حکومت بنائی جائے گی اور اگر 50 تا55نشستوں بی آر ایس کو حاصل ہوتی ہے تو مجلس کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کرلیا جائے گا۔بی آر ایس اور بی جے پی کی ان سیاسی چالبازیوں کے درمیان اگر تلنگانہ عوام متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو ایسی صورت میں کانگریس سادہ اکثریت حاصل کرسکتی ہے ۔تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار حاصل کرے سے روکنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر جاری ان کوششوں کے سلسلہ میں کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی ہائی کمان واضح کرچکا ہے کہ تلنگانہ میں کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کیا جائے گا ۔کرناٹک اسمبلی انتخابات میں جس انداز سے علاقائی پارٹی کے طور پر جے ڈی ایس نے مقابلہ کیا اور ووٹوں کی تقسیم کی کوشش میں ناکامی کے نتیجہ میں ریاست میں کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اور اندرون چند ماہ جے ڈی ایس کا حقیقی چہرہ سامنے آگیا اور جے ڈی ایس نے این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرلی۔تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی بادشاہ گر کے موقف کواپنے یا مجلس کے پاس رکھنے کے حق میں ہے اور خود بی آر ایس کو بھی اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ دونوں میں کسی بھی جماعت کے پاس بادشاہ گر کا موقف رہے اس کا بھر پور فائدہ بھارت راشٹرسمیتی کو ہی ہوگا کیونکہ بی آر ایس درکار نمبر کی بنیاد پر مستقبل کا فیصلہ کرے گی جبکہ کانگریس کا موقف واضح ہے وہ کسی بھی صورت میں بی آر ایس یا مجلس سے اتحاد کے حق میں نہیں ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی پہلی فہرست میں مخالف مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارتے ہوئے بی جے پی نے اکثریتی ووٹ کو متحد کرنے کی کوشش کی ہے ۔