یہودی طلبہ کو برطانوی یونیورسٹیوں میںتحفظ فراہم کیا جائے:رشی سونک

   

لندن: غزہ میں آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں فلسطینیوں کے اندھے قتل عام کے بعد یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح برطانیہ میں بھی یہودی طلبہ کے لیے مشکلات پیدا ہونے لگی ہیں۔ اس صورتحال پر تشویش کا اظہار برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کی طرف سے یونیورسٹیوں کے سربراہوں سے ایک ملاقات کے دوران ملاقات میں سامنے آیا ہے۔رشی سونک نے یونیورسٹیوں کے سربراہان سے کہا ہے کہ یہودی طلبہ کے تحفظ کا اہتمام کریں اور انہیں یہود مخالفت کا شکار نہ ہونے دیں نہ ہی انہیں مٹھی بھر اقلیتی احتجاجی اور جنگ مخالف طلبہ کے احتجاج سے ہراساں ہونے دیں۔برطانوی وزیر اعظم نے یونیورسٹی سربراہان سے یہ درخواست جمعرات کے روز کی ہے جب امریکہ اور یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح برطانیہ کے یونیورسٹی طلبہ بھی غزہ میں عورتوں اور بچوں کی ہزاروں کی تعداد میں ہلاکت اور مسلسل جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ لگا رہے ہیں۔ یہ احتجاجی طلبہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے علاوہ اسرائیل کو اپنے ملکوں سے اسلحہ فراہمی روکنے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ان یونیورسٹی طلبہ نے اپنے اس احتجاج کیلئے یونیورسٹیوں کے اندر احتجاجی کیمپ لگا کر غزہ جنگ کے خلاف دھرنے بھی دیے ہیں، کئی یونیورسٹیوں میں سے بعض کی یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے ان طلبہ کے کیمپ اکھڑوائے اور انہیں گرفتار کروایا ہے۔