۔10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے تقررات ، مسلم نمائندگی پھر نظر انداز

   

گنگا جمنی تہذیب کے قول و فعل میں تضاد ، مسلمانوں میں مایوسی اور تشویش کی لہر

حیدرآباد :۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے بعد حکومت نے 10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے تقررات میں بھی مسلم نمائندگی کو نظر انداز کردیا ہے ۔ ریاست میں ڈھائی سال تک مخلوعہ رہنے والے وائس چانسلرس کے عہدوں پر بالآخر تقررات کردئیے مگر ایک یونیورسٹی کے لیے مسلم وائس چانسلر کا تقرر نہیں کیا گیا ۔ طویل عرصہ سے یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے عہدے مخلوعہ رہنے پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو پھٹکار لگائی تھی ساتھ ہی گورنر نے بھی اس پر ردعمل کا اظہار کیا تھا ۔ دو دن قبل ہی حکومت نے ان 10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کی ایک فہرست راج بھون کو روانہ کی تھی کل ہی گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے حکومت کی سفارش کو منظوری دے دی تھی ۔ جمعہ کو ہی حکومت کی جانب سے حکامات جاری ہونے کی توقع کی جارہی تھی ۔ لیکن حکومت نے آج احکامات جاری کئے ۔ جس کے مطابق پروفیسر رویندر یادو کو عثمانیہ یونیورسٹی کا ، ستیا راما راو کو امبیڈکر یونیورسٹی کا ، کشن راؤ کو تلگو یونیورسٹی کا ، پروفیسر ملیشم کو شاتا واہنا یونیورسٹی کا ، رویندر گپتا کو تلنگانہ یونیورسٹی ، پروفیسر گوپال ریڈی کو مہاتما گاندھی یونیورسٹی ، پروفیسر راٹھور کو پالمور یونیورسٹی کا ، کے نرسمہا ریڈی کو جے این ٹی یو کا ، پروفیسر کویتا دریانی کو جے این آرٹیکچر اینڈ فائن آرٹس کا ، پروفیسر رمیش کو کاکتیہ یونیورسٹی کا وائس چانسلرس بنائے گئے ہیں ۔ تاہم ان 10 یونیورسٹیز میں ایک بھی یونیورسٹی کا مسلمان کو وائس چانسلر نہیں بنایا گیا جس سے ٹی آر ایس حکومت کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار ہوتا ہے ۔ دو تین دن قبل ہی تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے صدر نشین اور 7 ارکان کا تقرر کیا گیا جس میں بھی مسلم نمائندگی کو نظر انداز کردیا گیا جب کہ میعاد مکمل کرنے والے کمیشن کے ارکان میں ایک مسلم نمائندہ شامل تھا اس روایت کو برقرار نہیں رکھا گیا جس پر بھی مسلمانوں میں ناراضگی مایوسی اور بے چینی پائی گئی تھی ۔ میڈیا کے ذریعہ یہ بات چیف منسٹر کے سی آر تک پہونچی بھی تھی اس کے بعد یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے تقررات میں دوبارہ مسلم نمائندگی کو نظر انداز کرنے پر مسلمانوں میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر ایک طرف تلنگانہ میں گنگا جمنی تہذیب کی بات کرتے ہیں دوسری طرف سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جب عمل کرنے کی بات آتی ہے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ مسلمانوں میں کئی قابل پروفیسرس موجود ہیں مگر انہیں نظر انداز کردیا گیا ہے جس سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔