دہلی حکومت پر 2000 کروڑ کا سالانہ اضافی بوجھ، عام آدمی بھی سہولتوں کا حقدار: اے اے پی
نئی دہلی۔یکم اگست (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے اعلان کیا ہے کہ جو لوگ 200 یونٹ بجلی ہر ماہ استعمال کرتے ہیں۔ انہیں بجلی کا بل ادا کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب دہلی کے اسمبلی انتخابات آئندہ سال کے اوائل میں ہوں گے۔ کجریوال نے ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ جو لوگ ماہانہ صرف 200 یونٹ بجلی کا استعمال کرتے ہیں انہیں مکمل زر تلافی (سبسیڈی) دی جائے گی اور جو لوگ 201یونٹ سے 400 یونٹ بجلی کا استعمال کریں گے انہیں 50 فیصد زر تلافی سے استفادہ کی سہولت رہے گی۔ اس فیصلہ کا نفاذ جمعرات سے ہوگا۔ وزیراعلی کجریوال کے بیان کے مطابق بجلی کی سربراہی پر سبسیڈی دینے سے حکومت پر سالانہ 1800 کروڑ سے 2000 کروڑ روپیوں کا بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام سے دہلی میں بجلی کی بچت اور کفایت کے رجحان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ 200 یونٹ تک معافی کے سبب بجلی کا استعمال کم ہوگا۔ دہلی میں بجلی کے لوڈ میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ بعض عہدیداروں نے بیان کیا کہ ’’حال ہی میں دہلی میں نہایت ہی مصروفیات کے وقت بجلی کا لوڈ 7400 میگاواٹ کو چھونے لگتا ہے۔ جو سب سے زیادہ ہے۔ جو لوگ موسم گرما میں 200 یونٹ بجلی کا صرف کرتے ہیں ان کا اوسط جملہ صارفین کے 35 فیصد کے برابر ہے اور سردی کے موسم میں یہ اوسط 70 فیصد ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ اس موسم میں بجلی کا استعمال کم ہوجاتا ہے۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے فروری 2015 ء میں ریاست دہلی کا انتظام جب سے سنبھالا ہے وہ بجلی بل پر صارفین کو 30 فیصد سبسیڈی فراہم کررہی ہے۔ کجریوال نے کہا کہ ’’دہلی کے عوام نے ایک ایماندار حکومت کو منتخب کیا ہے یہاں بجلی کی سربراہی سارے ملک کے مقابلے میں سب سے سستی ہے اور ساڑھے 4 سال کے عرصے میں دہلی حکومت نے بجلی کی شرحوں میں اضافے کی اجازت نہیں دی ہے۔ عوام کو بعض چیزوں کی حکومت کی جانب سے مفت یا رعایتی سربراہی پر نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے کجریوال نے اس کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ہمارے بڑے بڑے لیڈروں اور افسروں کو جو مفت بجلی سربراہ کی جاتی ہے اس کے خلاف کچھ نہیں کہتے۔ میں اپنے عام آدمی کو بھی سہولتیں دینا چاہتا ہوں جو 24 گھنٹے محنت کرتا ہے۔