Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / ہند ۔ پاک بات چیت

ہند ۔ پاک بات چیت

بہ ظاہر روز وہ ملتے ہیں لیکن
عداوت کا ابھی تک سلسلہ ہے
ہند ۔ پاک بات چیت
وزیر خارجہ سشما سوراج کے آئندہ ہفتہ دورۂ پاکستان سے قبل بنکاک میں ہند ۔ پاک قومی سلامتی مشیران کی ملاقات کو معطل شدہ بات چیت کے احیاء کی جانب اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔ تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں پاکستان کے قومی سلامتی مشیر ناصر جنجوعہ نے ہندوستانی ہم منصب اجیت ڈوول سے ملاقات کی۔ پیرس میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی ملاقات کے بعد یہ قوی اُمید پیدا ہوگئی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی تازہ کوشش ضرور کی جائے گی۔ قومی سلامتی مشیران کی ملاقات اگر کامیاب اور تعمیری ماحول میں سے ہوتی ہے تو آنے والے دنوں میں ہند ۔ پاک تعلقات میں استحکام آئے گا۔ بنکاک کی اس ملاقات کو اپوزیشن کانگریس نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کا کہنا کسی حد تک درست بھی ہے کہ نریندر مودی حکومت نے اپنی پاکستان پالیسی پر سردمہری کے اظہار کے بعد خفیہ ملاقاتوں کے ذریعہ دھوکہ دینا شروع کیا ہے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ مودی حکومت کی اب تک کی کارکردگی اور اس کے رویہ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس نے پاکستان کے معاملے میں یکسر انحراف پسند موقف اختیار کیا تھا۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز کی بات چیت کو اچانک کسی اشتعال انگیزی کے بغیر منسوخ کردیا گیا تھا لیکن مودی حکومت کے موقف میں ستمبر 2015ء اور ڈسمبر 2015ء کے درمیان بہت بڑی تبدیلی آئی ہے تو یہ حیران کن ہے۔ بلاشبہ ہند۔ پاک کے لئے باہمی مذاکرات کا عمل جاری رہنا نہایت ہی ضروری ہے لیکن حکومت کو ایسی اچانک ملاقات کے بارے میں وضاحت کرنا بھی ضروری ہے۔ آیا اس طرح کی ملاقات کے پیچھے نئی دہلی یا اسلام آباد نے رول ادا کیا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم نواز شریف نے اوفا میں مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے جذبہ دوستی کا اظہار کیا تھا لیکن بعد کے دنوں میں سرحدی کشیدگی کے بعد حالات خراب ہوگئے اور پھر کشمیری علیحدگی پسندوں سے پاکستانی قاصد کی بات چیت طئے ہونے پر مودی حکومت نے قومی سلامتی مشیران سطح پر مذاکرات کو ملتوی کردیا تھا۔ پاکستان کے ساتھ راست بات چیت کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن مودی حکومت نے اس سے پہلے اوفا ملاقات کے بعد قومی سلامتی مشیران کی بات چیت کو معطل کرکے یہ تاثر دیا تھا کہ اس کی پاکستان کے تعلق سے پالیسی سخت ہے۔ بنکاک میں ہوئی ملاقات کو میڈیا سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ دونوں ممالک اپنی ملاقاتوں کو خفیہ طور پر انجام دیں۔ اگر ہند ۔ پاک کے درمیان مذاکرات کے عمل کا احیاء ہوتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے حق میں بہتر ہی ہوگا۔ اوفا معاہدہ کے تحت امن کے قیام کیلئے دونوں ممالک کو دیرینہ حل طلب مسائل پر بات چیت کرتے ہوئے ان کی یکسوئی کی جانب کوشش کرنی ہے۔ گزشتہ اگست میں پاکستان کے قومی سلامتی مشیر برائے وزیراعظم سرتاج عزیز نے پیشگی شرط کے بغیر بات چیت کی پیشکش کی تھی لیکن مودی حکومت نے علیحدگی پسندوں کے مسئلہ پر بات چیت معطل کردی۔ دونوں وزرائے اعظم نے اوفا معاہدہ کے مطابق ہی تین نکاتی ایجنڈہ کو روبہ عمل لانے سے اتفاق کیا تھا۔ پہلا نکتہ دہشت گردی کے اُمور سے متعلق تھا۔ دوسرا اوفا میں طئے پانے والے فیصلوں سے متعلق تھا جن میں ماہی گیروں کی رہائی  مذہبی سیاحت کے بہتر سہولیات اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی کی صورت ِحال کم کرنے سے متعلق تھا۔ مذاکرات کا تیسرا نکتہ کشمیر سرکریک اور سیاچن سمیت تمام حل طلب معاملات کو بات چیت کے ذریعہ طئے کرنا تھا مگر سرحدی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے فائرنگ کے واقعات کے علاوہ بلااشتعال گولہ باری پر ہندوستان نے ناراضگی ظاہر کی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزام کے ساتھ مذاکرات معطل کردیئے گئے۔ اب جبکہ بنکاک میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا احیاء ہوا ہے تو وزیر خارجہ سشما سوراج کے آئندہ ہفتہ دورہ ٔ پاکستان کے موقع پر اس جذبہ خیرسگالی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ امن کے جتنے بھی مواقع دستیاب ہوئے ہیں، ان سے استفادہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو تعمیری رول ادا کرنا ہوگا اور یہی ان دونوں کے مفاد میں ہے۔ ہندوستانی وفد کے مطابق اتوار کو ہوئی بات چیت کو تعمیری بنانے کی کوشش کی گئی۔ روس کے شہر اوفا میں دونوں ملکوں کے درمیان جو اتفاق پیدا ہوا تو اس کے مطابق 2013ء سے معطل شدہ امن مذاکرات کے احیاء کیلئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں گے۔ اس خصوص میں اگر ہندوستان نے پاکستان سے زیادہ نرمی کا مظاہرہ کیا ہے تو یہ مثبت تبدیلی ہے۔ ایسی تبدیلیوں سے ہی اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT