ف80 فیصد بمقابلہ 20 فیصد ‘ یوگی کا ریمارک
حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آگئےہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آگئےہندوستان بھر میں جہاں کہیں انتخابات ہوتے ہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی قواعد
حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آگئےہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آگئےہندوستان بھر میں جہاں کہیں انتخابات ہوتے ہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی قواعد
ریاست تلنگانہ میں بی جے پی قائدین کو اپنا سیاسی مستقبل تابناک نظر آنے لگا ہے اور اسی وجہ سے بی جے پی کے کئی مرکزی قائدین اور مختلف ریاستوں
کر رہا ہوں میں جہادِ زندگیوقت میری داستان ہے آجکلپانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخاباتملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا آج الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا ہے
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئیوزیر اعظم نریندر مودی کو پنجاب میں اپنی ریلی سے خطاب کئے بغیر واپس لوٹنا پڑا ۔ الزام
گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں لوک سبھا کی چار نشستوں سے کامیابی حاصل کرنے اور پھر ضمنی انتخابات میں دو حلقوں سے جیت درج کرنے کے بعد تلنگانہ میں بی جے
مظہر تہذیب ہے اک ایک تار پیرہنبس یونہی اندازۂ سود و زیاں کرتے چلوسماجی جماعتیں اور ان کیلئے در پردہ کام کرنے والی نام نہاد تنظیمیں جب سماج میں نفرت
جانے ان پر گذر گئی کیا کیااور ہم حالِ دل سناتے رہےگورنر میگھالیہ ستیہ پال ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ملک کے کسانوں کے تئیں رویہ کا انکشاف
ہندوستان اور چین کے تعلقات سرحدی تنازعات کی وجہ سے پہلے ہی سے کشیدگی کا شکار ہیں اور ان میں مسلسل گراوٹ آتی جا رہی ہے ۔ چین کی جانب
ملک میں اچانک ہی نفرت انگیز تقاریر میںاور اشتعال انگیزیوں میںاضافہ ہوگیا ہے اور کھلے عام ملک کے قانون و دستور کی دھجیاںاڑائی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کی نسل کشی
آتا ہے خوف آنکھ جھپکتے ہوئے مجھےلیتے ہیں لوگ سانس بھی اب احتیاط سےملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے حساس ریاست اترپردیش میںکسی بھی وقت انتخابات کا
ہندوستان بھر میںپٹرولیم اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ملک بھر کے عوام ان قیمتوں کی وجہ سے پریشانیوںاور مشکلات کا شکار ہیں۔ پٹرولیم قیمتوںمیںبجائے خود اضافہ
قافلے وقت کے بڑھ بڑھ کے ٹھہر جاتے ہیںدشتِ غربت میں کوئی آبلہ پا باقی ہےملک کی پانچ ریاستوں بشمول اترپردیش و پنجاب میںآئندہ سال کے اوائل میںاسمبلی انتخابات ہونے
آج دل بیقرار سا کیوں ہےتیرا غم ہے تو بار سا کیوں ہےثہندوستان بھر میں ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جو صرف اور صرف اقلیت دشمنی پر مشتمل ہیں۔
ملک میںکسان برادری کے ایک سال طویل احتجاج کے بعد مرکزی حکومت کو بالآخر تینوں متنازعہ زرعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرنی پڑی تھی اور انہیںپارلیمنٹ میںمنسوخ کردیا گیا تھا
آج ہی شکوۂ بیداد کا آیا تھا خیالآج ہی تیری مدارات بہت یاد آئیملک بھر میں اومی کرون کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ
اترکھنڈ کے ہری دوار میں نام نہاد مذہبی شخصیتوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میںملک میں نراج اور افرا تفری پیدا کرنے کی کھلے عام دھمکیاں دی گئیں۔ مسلمانوں
پارلیمنٹ اجلاس کو شیڈول سے ایک دن قبل آج ہی ختم کردیا گیا ۔ راجیہ سبھا کے صدر نشین ایم وینکیا نائیڈو اور لوک سبھا کے اسپیکراوم برلا نے دونوںایوانوںکے
ہوا کا رُخ ہم بدل چکے تھے ، بھنور کی زد سے نکل چکے تھےکہاں اُمیدوں کو نیند آئی ، کہاں سہاروں نے ساتھ چھوڑاجموںو کشمیر میں حلقہ جات کی
سوچتا ہوں تو وہ جاں سے بھی زیادہ ہیں عزیزدیکھتا ہوں تو نظر آتے ہیں بیگانے سےآئندہ سال کے اوائل میں ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے
وہ آئیں، نیند آئے کہ خوابِ اجل ہی آئےکس کس کے انتظار میں جینا پڑا مجھےاترپردیش اسمبلی انتخابات کا بگل کسی بھی وقت بج سکتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں پہلے