اداریہ

عوامی مسائل اور حکومت کی ترجیحات

اس کی مجبوری کو کچھ وجہ یقینا ہوگیوہ جو وعدہ سے مکرتا ہے مکر جانے دےہمارے ملک ہندوستان میں آج کئی مسائل درپیش ہیں۔ سماج کے تقریبا تمام ہی طبقات

ریزرویشن ہٹاؤ آندولن

ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہےہاں غور سے سننا یہ صدی بول رہی ہےکاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نیٹ پیپر لیک مسئلہ پر کئے گئے احتجاج کے بعد

نوجوانوں تک رسائی کی مساعی

اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دلفریب اس کی نگہہ دل نوازجس وقت سے ملک میں نوجوانوں میں شعور بیدار ہوا ہے اور وہ اپنے حقوق

طلباء کے مطالبات اور حکومتیں

جذبۂ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھےپردۂ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھےدارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کے بیانر تلے ہوئے احتجاج اور

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

اگر زندگی کا کوئی اشارہ چاہیئےڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیئےیہ ایک کہا وت ہے کہ ’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی

دماغی نکسل ‘ مخالفین نشانہ پر

صبح کے تخت نشیں شام کو ملزم ٹھہرےہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھاہندوستان میں سیاسی مخالفت کو اب ذاتی دشمنی کی سطح تک پہونچا دیا گیا ہے

یوم آزادی ہند

انصاف کی ڈگر پہ بچوں دکھائو چل کےیہ دیش ہے تمہارا نیتا تم ہی ہو کل کےآج ہمارے ملک ہندوستان کا یوم آزادی ہے ۔ آج ہم اپنے عظیم ملک

پارلیمنٹ مانسون سشن

کھل نہیں سکتی شکایت کیلئے لیکن زباںہے خزاں کا رنگ بھی وجہہِ قیامِ گلستاںپارلیمنٹ کے مانسون سشن کا اختتام عمل میں آگیا ۔ اس سشن کو پوری طرح سے ضائع

پائلٹس کیلئے سخت قواعد ضروری

دنیا بھر میںفضائی سفر اب عام ہوتا چلا جارہا ہے ۔ کسی زمانے میں فضائی سفر کو ایک وقار اور شان کی علامت سمجھا جاتا تھا تاہم آج کے مصروف

نوجوانوں کے گرد گھومتی سیاست

رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ کہتے ہیںاُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پراونہ آتا ہےہندوستان کی روایت رہی ہے کہ ملک کی سیاست کسی نہ کسی پہلو

کرناٹک کانگریس میں اختلافات

ڈر ہے اس سے جاگے نہ کوئی انقلابایک طوفان کا پلنا بھی جرم ان دنوںکرناٹک کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر ریاستی کانگریس میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ دو سینئر

وزیر اعظم اور ملک کا نوجوان طبقہ

یہ کب سے تم معلمِ اخلاق بن گئےہم جانتے ہیں خوب ہی اپنا بھلا بُراکسی بھی ملک کیلئے اس کے نوجوان انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ نوجوانوںکے ہاتھوں ہی

آنکھ مچولی کا کھیل کیوں ؟

ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میںہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائناتجنتر منتر احتجاج اور پھر پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات

نظام تعلیم پر راہول گاندھی کا بیان

قائد اپوزیشن راہول گاندھی ویسے تو ہر مسئلہ پر آر ایس ایس کی مخالفت اور شدت سے اظہار خیال میں کبھی کوئی عار محسوس نہیںکرتے اور وہ سنگھ کے خلاف

احتجاجیوں سے دشمنوں جیسا سلوک !

کچھ لوگ سمجھتے ہیں اپنا بھی پرایا ہےدشمن بھی مگر مجھ کو لگتا ہے کہ اپنا ہےجس وقت سے نوجوان اور طلباء ہزاروں کی تعداد میں دہلی کے جنتر منتر

طلباء کی طاقت کا اعتراف

چمن سے رخصتِ فانی قریب ہے شایدکہ اب کے بوئے کفن دامنِ بہار میں ہےمرکزی وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان کے استعفے نے سارے ملک میں طلباء کی

طلباء احتجاج نے ملک کو متحد کردیا

ایک منصف کی طرح جُرم کو پھانسی دیکرتم نے بنیاد جو ڈالی ہے بڑی پیاری ہےدہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کی جانب سے جو احتجاج شروع کیا

نیٹ پیپر لیک ‘ مرکز کی تجاویز

ایک دل ہے اور طوفانِ حوادث اے جگرایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میںنیٹ امتحانی پرچوں کے افشاء سے نمٹنے کیلئے مرکز نے کئی تجاویز کو منظوری