عوامی مسائل اور حکومت کی ترجیحات
اس کی مجبوری کو کچھ وجہ یقینا ہوگیوہ جو وعدہ سے مکرتا ہے مکر جانے دےہمارے ملک ہندوستان میں آج کئی مسائل درپیش ہیں۔ سماج کے تقریبا تمام ہی طبقات
اس کی مجبوری کو کچھ وجہ یقینا ہوگیوہ جو وعدہ سے مکرتا ہے مکر جانے دےہمارے ملک ہندوستان میں آج کئی مسائل درپیش ہیں۔ سماج کے تقریبا تمام ہی طبقات
ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہےہاں غور سے سننا یہ صدی بول رہی ہےکاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نیٹ پیپر لیک مسئلہ پر کئے گئے احتجاج کے بعد
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دلفریب اس کی نگہہ دل نوازجس وقت سے ملک میں نوجوانوں میں شعور بیدار ہوا ہے اور وہ اپنے حقوق
جذبۂ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھےپردۂ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھےدارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کے بیانر تلے ہوئے احتجاج اور
بدلتے رنگ جہاں کے ہیں یہ سبھی منظرنیا لباس پہن کر پرانا یار ملابی جے پی کی جانب سے اب پارٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا
اگر زندگی کا کوئی اشارہ چاہیئےڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیئےیہ ایک کہا وت ہے کہ ’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی
صبح کے تخت نشیں شام کو ملزم ٹھہرےہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھاہندوستان میں سیاسی مخالفت کو اب ذاتی دشمنی کی سطح تک پہونچا دیا گیا ہے
انصاف کی ڈگر پہ بچوں دکھائو چل کےیہ دیش ہے تمہارا نیتا تم ہی ہو کل کےآج ہمارے ملک ہندوستان کا یوم آزادی ہے ۔ آج ہم اپنے عظیم ملک
کھل نہیں سکتی شکایت کیلئے لیکن زباںہے خزاں کا رنگ بھی وجہہِ قیامِ گلستاںپارلیمنٹ کے مانسون سشن کا اختتام عمل میں آگیا ۔ اس سشن کو پوری طرح سے ضائع
دنیا بھر میںفضائی سفر اب عام ہوتا چلا جارہا ہے ۔ کسی زمانے میں فضائی سفر کو ایک وقار اور شان کی علامت سمجھا جاتا تھا تاہم آج کے مصروف
رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ کہتے ہیںاُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پراونہ آتا ہےہندوستان کی روایت رہی ہے کہ ملک کی سیاست کسی نہ کسی پہلو
ڈر ہے اس سے جاگے نہ کوئی انقلابایک طوفان کا پلنا بھی جرم ان دنوںکرناٹک کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر ریاستی کانگریس میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ دو سینئر
شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گےیہ دن اگر برے ہیں تو اچھے دن بھی آئے گےتین بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کی تین اسمبلی نشستوں کیلئے
یہ کب سے تم معلمِ اخلاق بن گئےہم جانتے ہیں خوب ہی اپنا بھلا بُراکسی بھی ملک کیلئے اس کے نوجوان انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ نوجوانوںکے ہاتھوں ہی
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میںہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائناتجنتر منتر احتجاج اور پھر پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات
قائد اپوزیشن راہول گاندھی ویسے تو ہر مسئلہ پر آر ایس ایس کی مخالفت اور شدت سے اظہار خیال میں کبھی کوئی عار محسوس نہیںکرتے اور وہ سنگھ کے خلاف
کچھ لوگ سمجھتے ہیں اپنا بھی پرایا ہےدشمن بھی مگر مجھ کو لگتا ہے کہ اپنا ہےجس وقت سے نوجوان اور طلباء ہزاروں کی تعداد میں دہلی کے جنتر منتر
چمن سے رخصتِ فانی قریب ہے شایدکہ اب کے بوئے کفن دامنِ بہار میں ہےمرکزی وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان کے استعفے نے سارے ملک میں طلباء کی
ایک منصف کی طرح جُرم کو پھانسی دیکرتم نے بنیاد جو ڈالی ہے بڑی پیاری ہےدہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کی جانب سے جو احتجاج شروع کیا
ایک دل ہے اور طوفانِ حوادث اے جگرایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میںنیٹ امتحانی پرچوں کے افشاء سے نمٹنے کیلئے مرکز نے کئی تجاویز کو منظوری