ایل نینو کے اثرات ‘ عوام میں اندیشے
نہ پوچھ عرصۂ ہستی کی وسعت و تنگیجو چل پڑے تو بیاباں، رکے تو زنداں ہےایل نینو کے اثرات کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں اندیشے پیدا ہونے لگے
نہ پوچھ عرصۂ ہستی کی وسعت و تنگیجو چل پڑے تو بیاباں، رکے تو زنداں ہےایل نینو کے اثرات کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں اندیشے پیدا ہونے لگے
سبق ایسا پڑھا دیا تونےدل سے سب کچھ بھلا دیا تونےہندوستان بھر میں اس وقت الیکشن کمیشن کے طرز کارکردگی پر بحث چل رہی ہے ۔ اس انکشاف کے بعد
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتادسہرہ تہوار کی تعطیلات کے دوران وقفہ کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف احتجاج
اپنے ستم کو امن کا دیتے ہو نام تمہم اُف کریں تو کہتے ہو اعلان جنگ تھاجس وقت سے قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے ملک بھر میں حکومت کے خلاف
مسرت کے سندیسے لائیگی پھرہوا باغ وطن کی جب چلے گیاب جبکہ ملک میں تہواروں کا سیزن چل رہا ہے اور عوام دسہرہ تقاریب منانے میں مصروف ہیں ‘ چیف
اے دل قضا نہ آئے ادھر ٹکٹکی نہ باندھگولی کا سامنا ہے یہ نظاہرہ خال کاممبئی میں اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ۔ اداکار جوہو میں
ڈر ہے اس سے نہ جاگے کوئی انقلابایک طوفان کا پلنا بھی جرم ہے ان دنوںملک بھر میں ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج نے
نقش مٹتے جارہے ہیں بزرگوں کےراستے بے نور ہوتے جارہے ہیںموسمی تبدیلیوں کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوتی ہے اور فی الحال ملک بھر میں اور خاص طور پر
راہِ پُرخار سے بے خوف گزرنا سیکھوبحرِ ہستی سے بہر طور اُبھرنا سیکھومرکزی حکومت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کو بہرصورت کچلنے کا تہئیہ کرچکی ہے ۔
غم کے سینے میں خوشی کی آگ بھرنے دو ہمیںخوں بھرے پرچم کے پیچھے رقص کرنے دو ہمیںمرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ ایسا لگتا ہے کہ اب
یہ کب سے تم معلم اخلاق بن گئےہم جانتے ہیں خوب ہی اپنا بھلا بُراملک بھر میں ووٹ چوری کے الزام کے تحت اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے دہلی
امیر شہر کی مدحت نہ لکھی جائے گی ہم سےکہ جو خوددار ہیں وہ کار درباری نہیں کرتےمرکزی حکومت ایسا لگتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف
شبنمی سبز لبادوں سے مہک آئی ہےخاک و خوں توڑ ہی دیں گے کبھی دیرینہ خمارچیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں جاری احتجاج کے دوران حکومت کی
ہم ایسے محوِ تماشا نہ تھے کہ ہوش آتا!مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیاجس طرح سے توقع کی جا رہی تھی کہ دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کی جانب سے
کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دلانساں ہوں کوئی پیالہ و ساغر نہیں ہوں میںقومی دارالحکومت دہلی میںکل ہفتہ 10 اکٹوبر سے سی جے پی کی جانب سے احتجاج
جہاں تک دیکھ سکتا ہوں اندھیرا ہی اندھیرا ہےمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوںچیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کو مرکزی حکومت کی جانب
جمہوری طرز حکمرانی والے ملک میں عوام کے ووٹ کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کو ووٹ چوری کے ذریعہ کھوکھلا کرنے
مجھے خود بھی نہیں معلوم کب سےمرے دل میں مرا دشمن چھپا ہے!جس وقت سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا آغاز ہوا ہے اور ان کے
قہر ڈھائے گی اسیروں کی تڑپاور بھی الجھیں گے حلقے دام کےملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے
ظرف والے ہمارے حصہ میں آئے ہی نہیںجو بھی آتا ہے اوقات دکھا جاتا ہےمرکزی حکومت کی جانب سے جس طرح سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے