ژی جن پنگ کا دورہ ہندوستان
کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہےچین کے صدر ژی جن پنگ ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ہندوستان میں
کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہےچین کے صدر ژی جن پنگ ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ہندوستان میں
ملک کی کچھ ریاستوں میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں پنجاب بھی شامل ہے ۔ اترپردیش اور گجرات میں بھی الیکشن ہونا ہے ۔
صدیوں سے ایک جان تھے کس آن بان سےرشتے کہاں چلے گئے سب درمیان سےملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش میں آئندہ
جمہوریت کا درس اگر چاہتے ہیں آپکوئی بھی سایہ دار شجر دیکھ لیجئےکانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی نے جو بھارت جوڑو یاترا کی تھی وہ کسی ایک
راہ میں مرحلۂ دشت و جبل آئیں گےصبح سے پہلے اُفق پار چلے جانا ہےملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں جس وقت سے آدتیہ ناتھ چیف منسٹر بنے
وعدہ رہا نہ یاد تغافل شعار کوکیا اب جواب دوں نگاہِ انتظار کوہندوتوا غنڈوں کی جانب سے قانون کی دھجیاں اڑانے کا معاملہ یہاں تک پہونچ گیا ہے کہ وہ
لطف کی ان سے التجا نہ کریںہم نے ایسا کیا ، کبھی نہ کریںبار کونسل آف انڈیا کو سپریم کورٹ سے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ سپریم کورٹ
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیام جاری کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ہندوستان نے 7.8 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے ۔ وزیر اعظم نے یہ
ہر گھر کی دیواروں پر تحریرِ اخوت ہواس طرزِ نگارش کو ایجاد کریں پھر سےکانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے دورہ اترکھنڈ ہلدوانی کے بعد وہاں شدھی کرن کی جو رسم
رہائی ہو نہیں سکتی کبھی قید تعلق سےجو اک زنجیر ٹوٹی دوسری زنجیر دیکھیں گےقومی دارالحکومت دہلی سے متصل گریٹر نوئیڈا میں ایک 16 سالہ لڑکی کی چلتی ہوئی بس
دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھتم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلےگذشتہ دو تا ڈھائی ماہ میں ملک میں جو حالات پیدا ہوئے
شبِ سیاہ میں گم ہوگئی ہے راہِ حیاتقدم سنبھل کے اٹھاؤ بہت اندھیرا ہےجن نوجوانوں کے ساتھ حکومت نے سنسد مارچ کے بعدبات چیت کرتے ہوئے کچھ تیقنات دئے تھے
یہ جتنے مسئلے ہیں مشغلے ہیں سب فراغت کےنہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیںملک کے قائدا پوزیشن راہول گاندھی حالیہ عرصہ میں جس طرح سے عوامی
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگاس کے سازسے ہے زندگی کا سوز دروںقائد اپوزیشن و کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مہاراشٹرا کے پونے میں چھاترو ں کی گونج
اس کی مجبوری کو کچھ وجہ یقینا ہوگیوہ جو وعدہ سے مکرتا ہے مکر جانے دےہمارے ملک ہندوستان میں آج کئی مسائل درپیش ہیں۔ سماج کے تقریبا تمام ہی طبقات
ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہےہاں غور سے سننا یہ صدی بول رہی ہےکاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نیٹ پیپر لیک مسئلہ پر کئے گئے احتجاج کے بعد
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دلفریب اس کی نگہہ دل نوازجس وقت سے ملک میں نوجوانوں میں شعور بیدار ہوا ہے اور وہ اپنے حقوق
جذبۂ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھےپردۂ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھےدارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کے بیانر تلے ہوئے احتجاج اور
بدلتے رنگ جہاں کے ہیں یہ سبھی منظرنیا لباس پہن کر پرانا یار ملابی جے پی کی جانب سے اب پارٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا
اگر زندگی کا کوئی اشارہ چاہیئےڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیئےیہ ایک کہا وت ہے کہ ’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی