اومی کرون کا خطرہ ‘ سخت احتیاط لازمی
زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویاہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویاایک ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا بتدریج معمول کی سمت بڑھ رہی تھی اور حالات
زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویاہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویاایک ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا بتدریج معمول کی سمت بڑھ رہی تھی اور حالات
ایک ایسے وقت جبکہ ملک بھر میں ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ بی جے پی سے سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد و اتفاق
بے نیازی کو اپنی خو نہ بنایہ ادا بھی کسی کو پیاری ہے؟ہندوستانی جمہوریت میں پارلیمنٹ کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ کو جمہوریت کا مندر بھی کہا
شکوہ خزاں سے ہے نہ شکایت بہار سےترتیب گلستاں ہے اسی انتشار سےہندوستان میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے ترقی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے
خود میرے آنسوؤں کا وہ طوفان ہی سہیپھولوں پہ میں نے دیکھی ہے شبنم کبھی کبھییو پی انتخابات ‘ مسائل سے بھٹکانے کی کوششاترپردیش انتخابات کیلئے عملا تیاریاں شروع ہوچکی
کورونا وائرس کا نیا خطرہ دنیا پر منڈلانے لگا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ جو نئی شکل کا وائرس عام ہوتا جا رہا ہے وہ سابقہ تمام
قدم قدم پہ لیا اِنتقام دُنیا نےتجھی کو جیسے گلے سے لگائے پھرتے ہیںمغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ترنمول کانگریس کے
مرکزی کابینہ نے آج اپنے اجلاس میں تین متنازعہ زرعی قوانین کی تنسیخ کو منظوری دیتے ہوئے اہم پیشرفت کی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے قوانین
خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آجائے گا!تم وہاں تک آ تو جائو ہم جہاں تک آگئےپنجاب انتخابات اور عام آدمی پارٹیملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے
کنارہ نہیں کوئی دریا دلی کایہ فیض سخاوت کوئی ہم سے پوچھےاشوک گہلوٹ کابینہ میں توسیعراجستھان میں اشوک گہلوٹ کی کابینہ میں بالآخر توسیع کردی گئی اور کہا جا رہا
مرکز کی نریندر مودی حکومت نے کسانوں کے ایک اہم مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے تین متنازعہ زرعی قوانین کی تنسیخ کا اعلان کردیا ہے تاہم کسان اب بھی اپنا
نظر نظر میں ہے کامرانی ، قدم قدم پر ہے کامیابیمگر کوئی مسکرا کے دیکھے تو ہار جانا بھی جانتا ہوںسیاست میں شخصی مخاصمتہندوستان کی سیاست میں مسلسل گراوٹ آتی
خیالِ خاطر احباب اور کیا کرتےجگر پہ زخم بھی کھائے شمار بھی نہ کیاتقریبا تمام سرکاری امور اورا پنے فیصلوں میں ہٹ دھرمی اور اکثریت کے زعم کا مظاہرہ کرنے
اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیںاشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیںچیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راو نے آج مرکزی حکومت کے
ملک کے مختلف شہروں میں حکومتوں اور انتظامیہ کی جانب سے یہ طئے کیا جانے لگا ہے کہ عوام کو کیا کھانا چاہئے اور کیا نہیں ۔ ملک کے دستور
تلنگانہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ٹکراؤ اور تصادم کی صورتحال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ بی جے پی ہر موقع
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگرلوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیایو پی ‘ کانگریس کا تنہا مقابلہکانگریس کی جنرل سکریٹری برائے اترپردیش پرینکا گاندھی واڈرا نے
حکومت کی جانب سے معیشت کے بحال ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور یہ بھی امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ وقتوں میں ہندوستان کی معیشت تیزی
دِل کو بہت مجبور نہ کیجئےصبر کا دامن چھوٹ نہ جائےویسے تو چیف منسٹر اترپردیش کی پسندیدہ مشغولیت تاریخی مقامات ‘ اضلاع اور ریلوے اسٹیشنوں کے وہ نام بدلنے کی
خبر کے موڑپہ سنگ نشاں تھی بے خبریٹھکانے آئے مرے ہوش یا ٹھکانے لگےچین کی جانب سے ہندوستان کی سرزمین میںدراندازی ‘ قبضہ اور تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ خود امریکی