قرآن
اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمھیں اس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے پھر تشریف لائے
اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمھیں اس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے پھر تشریف لائے
نبی کریم ﷺ مومنوں کی جان کے مالک !عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي اللہ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلي اللہ عليه وآله وسلم قَالَ : مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَأَنَا أَوْلَي النَّاسِ بِهٖ
ماہ ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی چہار سو بہاریں چھا جاتی ہیں۔ پیار و محبت اور عظمت و احترام کے جذبات اُمنڈنے لگتے ہیں۔ ہر طرف خوشیوں کا
حافظ صابر پاشاہ ربیع الاول وہ مہینہ ہے جسے اہلِ محبت ماہِ کامل سے تعبیر کرتے ہیں؛ اس لیے کہ اسی ماہ کی نسبت اس عظیم ہستی سے قائم ہے
خالد سامی خالدایک دفعہ حضور اکرم ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ آپ کے قریب ہی سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما موجود تھے۔ آپ
حافظ محمد ہاشم صدیقیربیع الاول میں تشریف لانے والے محسنِ کائنات نے انسانوں کے لئے جو دستورِ زندگی دیا وہ صرف دستور کی حد تک نہیں بلکہ اللہ کے رسولؐ
ابوزہیر حافظ سید زبیر ہاشمی نظامیخلیفۂ چہارم حضرت سیدنا علی مرتضی و سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہما کے گلشن کے مہکتے پھول، اپنے نانا جان، رحمت عالم ﷺکی آنکھوں کے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی اللہ عليه وآله وسلم قَالَ : بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعَبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيْتُ بِمَفَاتِيْحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي
دوسرے ہزارہ کے مجدد قوم زماں حضرت شیخ احمد سرہندی کے تجدیدی انقلاب کو تاقیام قیامت یاد رکھا جائے گا۔ آپ نے جس اسلوب و پیرائے میں اسلام کی
اور ہم نے فرمایا اے آدم رہو تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور دونوں کھائو اس سے جتنا چاہو جہاں سے چاہو اور مت نزدیک جانا اس درخت
اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ’’صَفَرُ المُظَفَّر‘‘شروع ہو چکا ہے،یہ مہینہ انسانیت میں زمانۂ جاہلیت میں منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا
رشتہ ازدواج میں استحکام اور عائلی نظام کا استقرار نکاح قانونِ فطرت ہے، انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی نسبت ہے، تسکین نفس کا حلال و پاکیزہ طریقہ ہے، باہمی
’’ماہ صفر یا کسی بھی مہینے کو منحوس سمجھنا جائز نہیں، یہ جاہلیت کا عقیدہ ہے جو اسلام سے پہلے کے دور سے چلا آ رہا ہے‘‘ ۔نہ صفر کا
اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور (داخل)
کسی دن یا مہینے کومنحوس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاذ اللہ ہم اللہ تعالیٰ کو منحوس کہہ رہے ہیں ، کیونکہ دن اور مہینہ زمانہ کہلاتا ہے اور
آج مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے، ان کی جان کی کوئی وقعت نہیں ہے، ان کی آبرو کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ان کی معیشت کا کوئی
ابوزہیر حافظ سید زبیرھاشمی نظامیصفرالمظفر لغوی اعتبار سے اِس کے معنی خالی یا زرد کے ہیں ۔ ایامِ جاہلیت میں اس نام کے دو مہینے تھے صفرالاولی اور صفرالآخرہ۔ اسلامی
مولانا سید محمد اطہر علیآپؒ کا پورا نام خلیفہ و امام حضرت سید یوسف علی شہید ؒ برصغیر کے معروف بزرگ، ولیِ کامل، عالمِ دین تھے۔ آپؒ سے بے شمار
حافظ محمد حمیدالدین قادریدکن زمانہ قدیم سے علم و عرفان اور روحانیت کا گہوارہ رہا ہے ۔ قندھار (موجودہ مہاراشٹرا ) بلاشبہ صدیوں سے علم و عرفان کا مرکز رہا
سید محمد بادشاہ حسینی حسانؔدنیا میں آنے والا ہر شخص چند دنوں کے لئے آتا ہے اور چلا جاتا ہے لوگ اُسے کچھ دن یاد کرتے ہیں اور بھول جاتے