قرآن
بیشک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس نبی مکرم پر اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب و محبت سے)
بیشک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس نبی مکرم پر اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب و محبت سے)
اسلام ، دین فطرت ہونے کے ساتھ ، آفاقی نیز جامعیت کا حامل مذہب ہے ، فطرت ، آفاقیت اور جامعیت ایسے کمالات ہیں جن کی عظمت، وسعت ، تنوع
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما قَالَ : عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالنَّبِيُّ صلي اللہ عليه وآله وسلم بَيْنَ يَدَيْهِ رِکْوَةٌ فَتَوَضَّأَ، فَجَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ : مَالَکُمْ؟
ابوزہیر حافظ سید زبیر ہاشمی نظامیحسنِ اخلاق سے مراد انسان کا بہترین، نرم اور شائستہ رویہ ہے جو وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ میل جول میں اختیار کرتا ہے۔ اسلامی
ڈاکٹر فاطمہ آصفإِنَّ ٱللّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِيْنَ أَمَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا oاﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اور میرے تمام فرشتے سرکارِ دوعالم ﷺ پر
مولانا قاضی اسد ثنائیانسانی تاریخ میں بہت سے رشتے بنتے اور ٹوٹتے رہے ہیں، مگر ایک رشتہ ایسا ہے جسے خود قرآن نے ہمارے وجود کی پہچان بنایا ہے اور
ڈاکٹر سید حسام الدین گزشتہ سے پیوستہ … حضرت پیرانِ پیرؒ ۵۱۱ ھ میں چالس سال کی عمر میں وعظ و مواعظ کے ذریعہ اپنے مشن تجدید دین کا آغاز
صوفی شاہ محمد مظفر علی چشتی ابوالعلائی دکن میں سلسلہ ابوالعلائیہ کے بانی حضرت شاہ محمد قاسم عرف شیخ جی حالی قبلہؒ حیدرآباد کے نامور بزرگ گذرے ہیں ۔ حضرت
بیشک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس نبی مکرم پر اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب و محبت سے)
درلباس اہل دنیا کارعقبی می کنندخرقۂ فقراست پنہاں در طریق نقشبندجس طرح ائمہ و مجتھدین اور فقھاء و محدثین نے شریعت اسلامی کے اُصول کو قرآن و حدیث اور فتاوی
مولانا محمد کلیم اللہ چشتی مرزائیحضرت مرزا محمد بیگ قبلہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایسی ہستی ہیں جن کے ہاں عمل و ایقان اور علم و ایمان کے ساتھ ساتھ
ڈاکٹر سید حسام الدیناﷲ رب العزت آنحضرت ﷺ کو اُس کی وحدانیت اور احکام کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے نبی بناکر دنیا میں بھیجا ۔ آپؐ اﷲ کے آخری
ابوزہیر حافظ سید زبیر ہاشمی نظامیمحدث دکن حضرت سید عبداللہ شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ۱۰؍ ذی الحجہ ۱۲۹۲ہجری بمطابق۶؍ فروری ۱۸۷۲عیسوی کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ
مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری حضرت سید شاہ حسین شہید اللہ بشیر بخاریؒ ، مسلکاًسنی حنفی ، مشرباً نقشبندی مجددی قادری ، اصلاً و نسباً بخاری سادات، کنیت: ابورجاء ،
عبداﷲ محمد عبداﷲحضرت مولانا سید محمد بادشاہ حسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات بابرکات برصغیر ہند و پاک کے لئے محتاج تعارف نہیں ہے۔ سرزمین دکن پر آصف سابع کے
ڈاکٹر سیدہ عصمت جہاںاولیاء اللہ اس سرزمین پر اللہ عزوجل شانہ کے اسرار و حکم اور اس کی معرفت کے امین و نقیب اور ہادی مرسل‘ فخر رسل‘ مولائے کل
بیشک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس نبی مکرم پر اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب و محبت سے)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي اللہ عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلي اللہ عليه وآله وسلم : إِنَّ مِنْ عِبَادِ ﷲِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ
موجودہ دَور میں احترامِ انسانیت کے بلند بانگ دعوے، دنیا کے ہر گوشے سے ہو رہے ہیں۔ احترام آدمیت سے متعلق نت نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں، ادنیٰ سی
عبدالسبحان خاننام و نسب : آپؓ کا اسم گرامی عبدالقادر اور کنیت ابومحمد اور لقب محی الدین تھا۔ فرطِ عقیدت سے آپؓ کو متعدد القاب سے یاد کیا جاتا ہے