جواب داخل کرنے حکومت کو تین ہفتے کی مہلت، مفاد عامہ کی درخواستوں کی چیف جسٹس نے سماعت کی
حیدرآباد ۔6 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے آدھار کارڈ کے بغیر سرکاری دواخانوں میں علاج کی سہولتیں فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلہ میں حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے حکومت سے سوال کیا کہ ایمرجنسی کی اہمیت ہے یا پھر آدھار کو ترجیح دی جائے گی۔ ہائی کورٹ میں کے راجو نامی شخص نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کرتے ہوئے شکایت کی کہ ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کو ایمبولنس خدمات محض اس لئے فراہم نہیں کی گئی کہ ان کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے ۔ میڈیکل ایمرجنسی کے باوجود ایمبولنس فراہم کرنے سے انکار کیا گیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر کوئی سڑک پر پایا جائے تو کیا اسے ہاسپٹل منتقل کیا جائے گا یا پھر آدھار کارڈ کی جانچ ہوگی۔ چیف جسٹس نے حکومت کو اندرون دو ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ درخواست گزار نے شکایت کی کہ ایمبولنس سرویس نے محض اس لئے لڑکی کو ہاسپٹل منتقل کرنے سے انکار کیا کیونکہ اس کے پاس آدھار کارڈ نہیں تھا۔ یہ واقعہ ڈسمبر 2024 میں پیش آیا اور 108 ایمبولنس اسٹاف نے کوئی مدد نہیں کی۔ چیف جسٹس نے آدھار سے محرومی پر میڈیکل خدمات کی عدم فراہمی کو سنگین ناکامی سے تعبیر کیا اور کہا کہ دستاویزات کے بغیر تمام ایمرجنسی مریضوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئے ۔ میڈیکل اینڈ ہیلت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری دواخانوں میں علاج کیلئے آدھار کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے اس شرط پر تشویش ظاہر کی اور حکومت سے وضاحت طلب کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی شخص حادثہ کا شکار ہو اور فوری طبی خدمات کی ضرورت پڑے تو ایسے میں آدھار کارڈ کے بغیر علاج نہیں ہوگا ؟ اسسٹنٹ گورنمنٹ پلیڈر نے بتایا کہ ایسے کیسس میں آدھار کے بغیر ہی علاج کی سہولت موجود ہے۔ چیف جسٹس نے اس طرح کے ایک اور معاملہ میں ایڈوکیٹ کی جانب سے روانہ کردہ خط کو مفاد عامہ کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈوکیٹ نے شکایت کی کہ غریب مریض کو آدھار کارڈ نہ ہونے پر محبوب آباد ضلع میں سرکاری دواخانہ میں علاج سے محروم رکھا گیا ۔ چیف جسٹس نے اس طرح کے معاملات کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے حکومت کو جواب داخل کرنے کیلئے تین ہفتے کی مہلت دی ہے۔1