پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)
ایک دور ایسا بھی تھا جب تمام معاشی اُمور میں معاشی معاملات میں ریزرو بینک آف انڈیا کی رائے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور اس کے مشوروں اور تجاویز پرمن و عن عمل کیا جاتا تھا ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کو ایک ایسا ادارہ تصور کیا جاتا تھا جو اپنے اصول و قواعد کے خول میں بند رہتا ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے بارے میں ایک بات مشہور ہیکہ اس تک عام لوگوں کی رسائی نہ تھی لیکن وہ ایک آزاد ادارہ تھا ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے بارے میں یہ بھی مشہور ہیکہ کئی ایک ناکامیوں کے باوجود اس کی ساکھ پر زیادہ فرق نہیں پڑا ۔ آر بی آئی کی سب سے بڑی ناکامی اُس مالیاتی اسکینڈل کو روکنے میں اس کی ناکامی تھی جسے اسٹاک بروکرز اور بینک کے عہدیداروں نے اس کی ناک کے نیچے کیا تھا او ہزاروں کروڑ روپئے لوٹ لئے تھے (1992) لیکن آر بی آئی کی حالیہ ناکامی حکومت کے ساتھ اس کی ملی بھگت تھی جب حکومت نے 2016 میں نوٹ بندی کی عجیب و غریب مہم جوئی کا آغاز کیا ۔ اس کے علاوہ آر بی آئی نے کئی موقعوں پر شرح سود کے تعین میں غلطیوں کا ارتکاب کیا ۔ ان تمام ناکامیوں کے قطع نظر میرا یہ ایقان ہیکہ آر بی آئی علم کا خزینہ ہے ۔ خاص طور پر معاشی تجزیہ اور پالیسی سے متعلق محکمہ اور اعداد و شمار کے جائزہ سے متعلق محکمہ اور اس کی کمپیوٹر خدمات غیر معمولی ہیں اور اسے ہم ڈیٹا کا معتبر اور قابل اعتبار اسٹور ہاؤز کہہ سکتے ہیں ۔ ان دونوں محکمہ جات کی خوبی یہ ہیکہ ان میں اعلیٰ درجہ باالفاظ دیگر پہلے درجہ کے مرد و خواتین خدمات انجام دے رہے ہیں ، یہ ایسے لوگ ہیں جو اقتصادی صورتحال کو تیز بنانے نہ صرف بہترین تجزیہ کرسکتے ہیں بلکہ پالیسی مشورہ دینے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ آر بی آئی کے ماہانہ بلٹین کو بینکرس ، ماہرین معاشیات ، اسکالرس اور پالیسی ساز بڑے پیمانے پر پڑھتے ہیں اور اس پر انحصار کرتے ہیں ، یہ افسوس کی بات ہوگی اگر ریزرو بینک آف انڈیا نے اپنی اچھی ساکھ کو یا تو فکری کاہلی یا بیرونی مجبورویوں سے کم ہونے دیا ہو ۔
مارچ 2023 کے ماہ میں آر بی آئی کے بلیٹین میں معاشی حالت پر باقاعدہ مضمون شامل ہے ۔ اس میں حسب معمول یہ انتباہ ضرور دیا گیا ہے کہ مضمون میں ظاہر کردہ خیالات مصنفین کے ہیں اور ریزرو بینک آف انڈیا ان خیالات کی نمائندگی نہیں کرتا ،حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مصنفین کا تعلق محکمہ اقتصادی تجزیہ اور پالیسی سے ہے اور ان کی قیادت مسٹر مائیکل پاترا کرتے ہیں جو فی الوقت ریزرو بینک آف انڈیا کے ڈپٹی گورنر ہیں ، جس چیز کو لیکر میں فکرمند رہا یا جس چیز نے مجھے پریشان کیا وہ یہ تھی کہ مضمون جس میں اقتصادی صورتحال کا معقول و مدلل جائزہ لیا جانا چاہیئے تھا لیکن اس میں معاشی حالت کے بارے میں غیر معمولی دعوے کئے گئے ہیں یہاں کچھ دعوے پیش کئے جارہے ہیں ۔
٭ اس توسیع کی بنیادی طاقت بلند افراط زر کے تسلسل میں واضح ہے جبکہ لیبر مارکٹ کا جو استحکام حیران کن طور پر سامنے آیا ہے وہ حقیقت میں سیاحتی تبدیلیوں کی عکاسی کررہا ہے ۔ تفریحی شعبہ ، شعبہ مہمان نوازی ، ریٹیل اور نگہداشت صحت کے شعبے ٹکنالوجی کی بڑی بڑی کمپنیوں کی طرف سے دی جانے والی ملازمتوں کو مکمل طور پر ختم کررہی ہے ۔
٭ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستان وبائی برسوں ( کورونا سے متاثرہ برسوں) سے ابھر کر سامنے آیا ہے جو ابتدائی سوچ سے زیادہ مستحکم ہے ۔ سال بہ سال ترقی کی شرح اسی رفتار کی عکاسی نہیں کرتی ہے کیونکہ تعمیر کے لحاظ سے وہ اعداد و شمار کے بنیادی اثرات سے پُر ہے ۔٭ اس صورتحال میں کیا ہوگا اگرمرکزی بجٹ میں تجویز کردہ 35000 کروڑ کی ٹیکس راحت میں سے کم از کم 50 فیصد ٹیکس دہندگان کھپت کیلئے استعمال کرتے ہیں اور شخصی استعمال کے حتمی اخراجات میں اضافہ کرتے ہیں ۔٭ کیا ہوگا اگر 3.2 لاکھ کروڑ روپئے کے اضافی مختص بجٹ کا تہائی حصہ بھی موثر سرمایہ مصارف ( خرچ) کیلئے مقررہ سرمایہ کی تشکیل میں اضافہ کرتا ہے ۔ ٭ عالمی معیشت کے برعکس ہندوستانی معیشت سست روی کا شکار نہیں ہوگی ۔ یہ 2022-23 میںحاصل کی گئی توسیع کی رفتار کو برقرار رکھے گی ۔
بہرحال اس مضمون میں کئی ڈیٹا ایسے پیش کئے گئے ہیں جو حقیقت سے بعید ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو ٹکنالوجیز کی کمپنیوں میں جو ملازمتیں ختم کی گئیں ہیں ان کی تعداد شعبہ مہمان نوازی یا ریٹیل انڈسٹری میں دستیاب روزگار یا ملازمتوں کے برابر نہیں ہے ۔ سہ ماہی بہ سہ ماہی یہاں تک کہ مسلسل سہ ماہیوں میں شرح نمو بہت کم ریکارڈ کی گئی ۔
( مضمون کا چارٹ 12) ایک اور اہم بات یہ ہیکہ اگر ایسا ہوتا تو کیسا ہوتا ۔ اگر ویسا ہوتا تو ایسا ہوتا۔یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے بلکہ اقتصادی شعبہ میں چیلنجس کا مقابلہ کرنا بہت اہم ہوتا ہے ۔ آپ کو بتادوں کہ میں نے بے شمار لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں جن کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے ۔ حالیہ دنوں میں میری ملاقات ادیبوں ، مصنفین ، قانون دانوں ، ہیر ڈریسر ، دیہی اسمبلی حلقوں کی نمائندگی کرنے والے ارکان اسمبلی ، ایک سابق میئر ، ایک ٹامل اسکالر ، ادبی شخصیتوں ، پارٹی کارکنوں ، متوسط صنعت کے مالک ، صحافیوں ، ایک ہیڈ ماسٹر ، ایک غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ ، ایک ہوٹلیر اور کئی نوجوان طلبہ سے ہوئی ۔ ان کی فکرمندی ، افراط یا مہنگائی میں اضافہ ، بیروزگاری ، ملازمتوں کی برخواستگی ( خاص طور پر برآمدات) کی طلب سے متعلق تھی ۔ ان ملاقاتوں کے بعد راقم اس نتیجہ پر پہنچا کہ نجی استعمال سست روی کا شکار رہا اور ہنوز Depraised ہے جبکہ گورنمنٹ کیاپٹل مصارف میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ بہرحال ہوٹلیر ہو یا ایس ایم ای اونر سپلائز یا گارمنٹ مینوفیکچررس اور برآمد کنندگان کا معاملہ ہو ان تمام کی آمدنی گھٹ گئی ہے ۔ ان حالات میں ہمیں آر بی آئی کی بلیٹین کی بجائے حقیقی اعداد و شمار پر نظر رکھنی چاہیئے ۔ یہ دیکھنا چاہیئے کہ معیشت کی حالت اصل میںکیاہے ۔