ممبئی ہائیکورٹ کی اورنگ آباد بنچ پر اکبر اویسی کی درخواست مسترد

,

   

اشتعال انگیز تقریر کے خلاف درج مقدمہ کو کالعدم کرنے کی اپیل
حیدرآباد۔14۔اگسٹ (سیاست نیوز) ممبئی ہائیکورٹ کے اورنگ آباد بنچ نے اشتعال انگیز تقریر کے معاملہ میں درج مقدمہ کے خلاف مجلس کے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی کی درخواست کو نامنظور کردیا۔ناندیڑ سے شائع ہونے والے روزنامہ’’ ناندیڑ ٹائمز‘‘نے 14 اگست کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے جس کے مطابق رکن اسمبلی نے ناندیڑ ضلع کی اردھا پور مقامی عدالت میں زیر دوران مقدمہ کو کالعدم کرنے کیلئے ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ پر درخواست دائر کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ 8 ڈسمبر 2021 میں بلدی انتخابات کے موقع پر اکبر اویسی نے اردھا پور تعلقہ میں جلسہ عام سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے بابری مسجد رام مندر تنازعہ پر اظہار خیال کیا۔ بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے حیدرآباد کی مقامی عدالت میں اکبر اویسی کے خلاف شکایت درج کی۔ عدالت کے احکامات پر ناندیڑ کے اردھا پور پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے 15 مارچ 2024 کو چارج شیٹ داخل کی جس کے بعد مقامی عدالت کے جج نے رکن اسمبلی کو سمن جاری کیا تھا۔ سمن کی وصولی کے بعد اکبر اویسی نے ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد بنچ پر درخواست دائر کی اور مقدمہ کو کالعدم کرنے کی اپیل کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جلسہ عام میں کوئی اشتعال انگیز تقریر نہیں کی گئی۔ مقدمہ میں تین سال بعد چارج شیٹ داخل کی گئی ۔ اورنگ آباد بنچ کے جسٹس آر ایم جوشی نے اکبراویسی کی درخواست کو نامنظور کردیا اور مقامی عدالت میں دفعہ 295-A کے تحت مقدمہ جاری رہے گا۔1/k