300 سے زائد اموات ، تارناکہ ہاسپٹل کو کووڈ سنٹر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد: آر ٹی سی ملازمین میں کورونا کے کیسیس میں اضافہ کے بعد تارناکہ میں واقع ہاسپٹل کو کووڈ سنٹر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ کورونا کی دوسری لہر میں آر ٹی سی کے 40 سے زائد ملازمین کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ آر ٹی سی ملازمین کو علاج کی بہتر سہولتوں کیلئے 200 بستروں کے تارناکہ ہاسپٹل کو کووڈ سنٹر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کئی ملازمین نے اس سلسلہ میں یونینوں کے ذریعہ حکومت سے نمائندگی کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی اور دوسری لہر میں 300 سے زائد ملازمین اور ان کے افراد خاندان کورونا سے فوت ہوئے ہیں۔ آر ٹی سی ملازمین کی جملہ تعداد تقریباً 50,000 ہیں۔ حکومت کی جانب سے تحدیدات اور نائیٹ کرفیو کے نتیجہ میں آر ٹی سی صرف 40 فیصد خدمات انجام دے رہا ہے اور زیادہ تر بسیں ڈپوز تک محدود ہیں۔ کیسیس میں اضافہ کے بعد مسافرین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ آر ٹی سی بسوں میں پہلے مرحلہ کے دوران سماجی فاصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے نشستوں کا انتظام کیا گیا تھا لیکن دوسری لہر میں اس طرح کے کوئی قدم نہیں اٹھارہے ہیں۔ آر ٹی سی ملازمین نے بسوں اور ڈپوز کو باقاعدہ طورپر سنیٹائز کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ آر ٹی سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کارپوریشن کے 329 ملازمین کورونا سے فوت ہوچکے ہیں۔ آر ٹی سی کے دواخانوں میں کورونا کے علاج کا مناسب انتظام نہیں ہے ۔ اگر تارناکہ ہاسپٹل کو کووڈ سنٹر میں تبدیل کیا جائے تو آر ٹی سی ملازمین کو سہولت ہوگی۔ اس ہاسپٹل میں 200 سے زائد بستر موجود ہیں۔ آکسیجن اور وینٹی لیٹر کی سہولت کے ذریعہ اسے اب گریڈ کیا جاسکتا ہے۔