عہدیداروں کی چار رکنی کمیٹی نے مسائل حل کرنے چار ہفتے کا وقت مانگا تھا
حیدرآباد 21 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال آج نصف شب سے شروع ہوگئی کیونکہ عہدیداروں کی چار رکنی کمیٹی اور ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان بات چیت ناکام ہوگئی۔ چار رکنی کمیٹی نے ملازمین کے مسائل حل کرنے کے لئے چار ہفتے کا وقت مانگا لیکن جے اے سی قائدین نے مزید مہلت دینے سے انکار کردیااور ہڑتال کے آغاز کا اعلان کردیا۔قبل ازیں حکومت نے آر ٹی سی ملازمین کے مسائل کا جائزہ لینے کے لئے عہدیداروں کی 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی ۔ چیف سکریٹری کے رام کرشنا راؤ نے کمیٹی کی تشکیل کا جی او نمبر 66 جاری کیا۔ آر ٹی سی ملازمین کی جانب سے پیش کردہ مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو سفارشات پیش کرنے کے لئے اسپیشل چیف سکریٹری ٹرانسپورٹ، روڈ اینڈ بلڈنگس کی صدارت میں کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے ارکان میں اسپیشل چیف سکریٹری، لیبر، ایمپلائمنٹ، ٹریننگ اینڈ فیاکٹریز اور پرنسپل سکریٹری فینانس شامل ہیں۔ نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر آر ٹی سی کو کمیٹی کا رکن اور کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو اندرون 4 ہفتے آر ٹی سی ملازمین کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اِسی دوران آر ٹی سی ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چہارشنبہ سے ہڑتال کے فیصلہ پر قائم رہنے کا اعلان کیا ۔وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے آر ٹی سی ملازمین سے ہڑتال سے دستبرداری کی اپیل کی اور کہاکہ تلنگانہ حکومت مذاکرات کے ذریعہ مسائل کی یکسوئی کے لئے تیار ہے۔ جے اے سی صدرنشین وینکنا نے کہاکہ ہڑتال کی نوٹس کو 41 دن مکمل ہوچکے ہیں لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ V/1/k/i
اُنھوں نے کہاکہ آر ٹی سی کی ہڑتال علیحدہ تلنگانہ جدوجہد کی عام ہڑتال کی طرح ہوگی۔V/1