حیات ابراہیمی اور موجودہ حالات | ✍️ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی

,

   

حیات ابراہیمی اور موجودہ حالات |

✍️ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی

(ترجمان وسکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ) 

 

قرآن مجید خدا کی کتاب ہے اور یہ کتاب قیامت تک کے لئے ہے ، اس لئے قرآن مجید میں جو مضامین آئے ہیں ، ان کا تعلق ایمانیات سے ہو ، انبیاء کے قصص و واقعات سے ہو ، عملی زندگی کے احکام سے ہو ، یا کائنات کے حقائق سے ، وہ سب قیامت تک کے لئے نشانِ راہ ہیں ، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف عہد میں اللہ تعالی کی طرف سے مبعوث کئے جانے والے پیغمبروں کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر رہی ہے ، ان میں سے صرف چند پیغمبروں کا قرآن پاک میں ذکر آیا ہے اور ان میں بھی بعض ہی پیغمبر ہیں ، جن کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں ، ان انبیاء کرام کا خصوصی طور پر ذکر اس بات کی علامت ہے کہ ان سے متعلق واقعات میں امت محمدیہ کے لئے خاص طور پر عبرت و موعظت کے پہلو موجود ہیں ، جن انبیاء کے واقعات کو قرآن مجید میں زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ، ان میں ایک سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں ۶۹بار آیا ہے اور رسول اللہ ا کے علاوہ انبیاء میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کی ذات ہے ، جن کے بارے میں قرآن مجید نے صراحت کی ہے کہ یہ امت کے لئے اسوہ ہیں : {قَدْ کَانَتْ لَکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ إِبْرَاہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٰ }(الممتحنہ : ۴) گویا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مسلمان مستقبل میں جن حالات سے دو چار ہوں گے ، ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ایک نقش راہ کا درجہ رکھے گی اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے میں اس امت کی فلاح و کامیابی مضمر ہوگی ۔

 

اگر غور کیا جائے تو آج مسلمان جن حالات سے دو چار ہیں وہ حیات ابراہیمی سے بڑی مماثلت رکھتے ہیں ، آج پوری دنیا میں مسلمانوں سے مطالبہ کیاجارہا ہے کہ وہ اللہ اور رسول کے احکام کے بجائے قومی روایات پر عمل کریں اور اپنے آپ کو اس تہذیب کے سانچہ میں ڈھال لیں جو آج پوری دنیا پر اپنا غاصبانہ قبضہ جمانا چاہ رہی ہے اور اس میں مسلمانوں کے سوا اور کسی کی مزاحمت در پیش نہیں ہے ، عالمی سطح پر ان سے مطالبہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کو قبول کرلیں ، شرافت و اخلاق اور حیا پر مبنی طریقۂ زندگی کو بنیاد پرستی اور قدامت پسندی کا نام دیا جارہا ہے ، ہندوستان میں ہندو توا کی بات کی جارہی ہے ، سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کی ابتدا یہیں سے ہوئی ، عراق کا معاشرہ چاہتا تھا کہ وہ اُس مشرکانہ طریقۂ زندگی پر قانع ہوجائیں ، جس میں سورج ، چاند اور ستاروں کی پرستش سے لے کر بے شمار چیزوں کی پرستش کی جاتی تھی اور اس روایتی فکر کے خلاف بغاوت نہ کریں ؛ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ضمیر نے اس کو قبول نہیں کیا کہ وہ توحید کے بجائے شرک پر قانع ہوجائیں ، انہوں نے ستارہ پرستی ، چاند پرستی ، سورج پرستی اور بت پرستی کے خلاف پوری قوت اور دلیل کے ساتھ آواز اٹھائی ، اس کا رد عمل یہ ہوا کہ پہلے آپ کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی ، مگر جب اللہ کی طرف سے آپ کی حفاظت کے غیبی انتظام نے انہیں ناکام کردیا ، تو آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا ، یہاں تک کہ آپ کے بت گر والد نے بھی آپ کو سنگسار کردینے کی دـھمکی دی : { لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ لَاَرجمَنَّکُ وَاہْجُرْنِیْ مَلِیًّا} (مریم : ۴۶)یہ وہی رویہ ہے جو ہر عہد میں باطل کی طاقتوں نے حق اور سچائی کے خلاف استعمال کیا ہے ، آج بھی مسلمانوں کو مختلف ملکوں میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے ، فلسطین میں فلسطینی پناہ گزینوں کو خود ان کے وطن میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور ہندوستان میں فرقہ پرست طاقتیں ’’ کہاں جائے گا مسلمان ، قبرستان یا پاکستان ؟ ‘‘ کا نعرہ لگارہی ہیں ، یہ قومِ ابراہیمی کے اسی رویہ کا اعادہ ہے ۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب عراق سے ہجرت کی تو راستہ میں مصر سے بھی گزرے ، جہاں آپ کی زوجہ حضرت سارہ علیہا السلام کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی گئی ؛لیکن اللہ تعالی کی مدد سے یہ فتنہ ٹل گیا ، پھر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام شام پہنچے اور بڑھاپے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو حکم ہوا کہ شیر خوار بیٹے اور نئی نویلی دلہن شہزادیِ مصر حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو شام و فلسطین کے مر غزاروں کو چھوڑ کر مکہ کے بے آب و گیاہ صحرا میں پہنچادیا جائے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اس امتحان میں بھی پورے اترے اور ان دونوں کو مکہ مکرمہ میں چھوڑ آئے ، جہاں اس وقت پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں تھا ، مکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پرورش ہوئی اور جب انہوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور امتحان ہوا ، جو آخری امتحان تھا ؛کہ اللہ کی رضا کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھینٹ چڑھا دیا جائے ، رضاء خداوندی کے طالب باپ اوروفاشعار بیٹے نے اس جاں گسل امتحان پر بھی لبیک کہا اور وہ قربانی پیش کی، جس کی محبت و جاں نثاری کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی :

 

اے دل ! تمام نفع ہے سودائے عشق میں 

 

اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں

 

یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالی قادر مطلق ہے ، اگر اللہ چاہتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان آزمائشوں سے گزارے بغیر بھی وہ مقاصد حاصل ہوجاتے جو مقصود تھے ؛لیکن ایسا نہیں ہوا ، آپ کو ابتلاؤں اور آزمائشوں کا سفرطے کرنا پڑا ، یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ملتی ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآن مجید نے واضح طور پر اشارہ کیا ہے ، اہل ایمان کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ وہ جب ایمان و ہدایت سے بہرہ ور ہوچکے ہیں اور حق وراستی پر قائم ہیں تو وہ اس دنیا میں مشقتوں اور آزمائشوں میں کیوں مبتلاکئے جائیں گے ؟ جیسے خدا نے ان کے لئے آخرت میں جنت بنائی ہے ، اسی طرح وہ دنیا میں بھی راحت و آسائش کے مستحق ہیں ، اللہ تعالی نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے نہایت تاکید کے ساتھ فرمایا ہے :  

 

’’ اور ہم تم لوگوں کو خوف، مال، جان اور پھلوں کے نقصان سے کچھ ضرور آزمائیں گے،( اس سلسلہ میں) آپ صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنادیں(جن کا حال یہ ہے کہ) جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں: ’’ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف واپس ہونا ہے‘‘(البقرۃ : ۱۵۵-۱۵۶)

 

اس آیت میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے خطاب ہے ، جن کا ایمان بعد میں آنے والی امت سے یقینا بڑھا ہواتھا ؛ لیکن اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہارے لئے پھولوں کی سیج بچھے گی ؛ بلکہ پوری قوت کے ساتھ فرمایا گیا کہ ہم تمہیں ضرور ہی ابتلاؤں اور آزمائشوں کی بھٹی میں تپائیں گے ، یہ آزمائش بھوک اور فاقہ مستی کی بھی ہوگی ، یعنی معاشی ناکہ بندی ہوگی ، ملازمت کے دروازے بند کئے جائیں گے ، تعلیمی پسماندگی سے بھی دوچار کیا جائے گا ؛ کیوںکہ یہ پسماندگی انسان کو معاشی زوال وانحطاط تک لے جاتی ہے ، خوف و دہشت سے بھی آزمایا جائے گا ، حکومتوں کا خوف ، انٹلی جنس اورپولیس کا خوف ، ظالمانہ قوانین کا خوف ، انسانی حقوق سے محروم کئے جانے کا خوف ، غرض طرح طرح کے خوف و دہشت سے مسلمانوں کو گزرنا پڑے گا ، مال کا نقصان بھی برداشت کرنا ہوگا ، تجارتوں اور کاروباروں پر حملے بھی ہوںگے ، جان کا نقصان بھی اٹھانا ہوگا ، اور مسلمانوں کے خون کی ارزانی ہوگی ، پھل کا بھی نقصان ہوگا ، زمین کے پھل میں جیسے سیب اور آم اور چاول اور گیہوں داخل ہیں، اسی طرح پٹرول اور دوسرے معدنی ذخائر بھی شامل ہیں ، آج حقیقی معنوں میں پٹرول کے ذخیرہ پر مغربی طاقتوں کا قبضہ ہے ، مسلم ممالک کو زراعتی ٹیکنالوجی سے محروم رکھنا ؛ بلکہ مختلف کیمیکل کے استعمال کے ذریعہ عالم اسلام کی زمینوں کو ناکارہ بنانا ، یہ سب زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی کو نقصان پہنچانا اور قرآن مجید کی زبان میں { وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ }ہے ، غرض کہ آج پوری دنیا میں مسلمان جن مصیبتوں سے گزر رہے ہیں وہ باعث حیرت نہیں ہے اور قرآن مجید نے شروع ہی سے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

 

 

ایسے واقعات پر مسلمانوں کا کیا طرز عمل ہونا چاہئے ؟ —– اللہ تعالی نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے موقع پر امت کو صبر کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ، صبر سے مراد ثابت قدمی ہے ، یعنی حالات کتنے بھی ناموافق ہوں اور کتنی بھی دشواریاں راہ حق میں آئیں ، انسان باطل کی قوت کو دیکھ کر متزلزل نہ ہو ، وہ حوصلہ نہ ہارے اور اللہ کے دین پر اس کے یقین میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہونے پائے ؛ بلکہ وہ پوری طرح ثابت قدم رہے ، قرآن مجید نے ایک اور موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب انہیں دشمن کی کثرت کا حوالہ دے کر خوف زدہ کرنے اور دہشت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، تو گھبرانے اور خوف کھانے کے بجائے ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے : { وَمَازَادَ ہُمْ إِلَّا إِیْمَانًا وَّتَسْلِیْمًا }(الأحزاب : ۲۲)پھر صبر کے اس مرحلہ میں مرد مؤمن اپنے درجۂ و مقام کا اعلان کرتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف واپس جانا ہے ، جس تمدن کی بنیاد عیش پرستی اور عشرت کو شی پر ہو، اور جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفسانی خواہشات کو پورا کرنا ہو ، وہ بنیادی طور پر ’’ بے خدا تمدن ‘‘ ہوتا ہے ، ایک ایسا تمدن جس میں خدا کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ، جس میں انسان اپنے آپ کو خدا سے بھی آگے سمجھنے لگتا ہے ، جس میں خدا کو چرچوں اور عبادت گاہوں تک محدود کردیا جاتا ہے ، اور پوری دنیا کو انسان اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے ؛ لیکن اسلام جس تمدن کی دعوت دیتا ہے ، وہ ’’باخدا تمدن ‘‘ہے ، جس میں انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ کے حوالہ کردیتا ہے ، اسی لئے قرآن دین حق پر ثابت قدم رہنے والوں کے طرز فکر کو بیان کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں : { إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ } (البقرۃ : ۱۵۶)یعنی : ’’ ہم سب اللہ کے لئے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہماری واپسی ہے ‘‘ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ، ہم خدا کی فرمانبرداری سے آزاد نہیں ہوسکتے ، اور ہم ایسے تمدن کو قبول نہیں کرسکتے ، جس میں خدا کو عبادت گاہ سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں ۔

 

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :  

 

{ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رٰبِّ الَعَالَمِیْنَ } (الأنعام : ۱۶۲)

 

’’ میری نماز ، میری عبادتیں ، میرا جینا اورمیرا مرنا یقیناََ اللہ ہی کے لئے ہے، جو تمام عالم کے پروردگار ہیں۔ ‘‘

 

 ایک اور موقع پر حضرت ابراہیم ں نے ارشاد فرمایا :

 

{ إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہَيَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ} (الا نعام : ۷۹)

 

’’ میں نے اپنا رُخ یکسو ہو کر اس خدا کی طرف کر لیا، جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘ 

 

 حضرت ابراہیم ں کی سب سے بڑی خصوصیت اللہ سے تعلق اورخود سپردگی تھی ، اورنمرودی معاشرہ میں یہی بات سب سے زیادہ ناقابل برداشت اور ناقابل عفو تھی ، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس فکر اور نظام حیات کے سانچہ میں ڈھالنا چاہتے تھے ، جس میں حقیقی خدا کا کوئی تصور نہ ہو ، جس میں انسان مذہب و اخلاق کی ہر طرح کی قید و بند سے آزاد ہو ، جس میں مذہب ایک رسمی چیز ہو اور جس کا زندگی میں کوئی عمل دخل نہ ہو ، جس میں انسان کی پیشانی اس کی مصنوعی دیویوں ، دیوتاؤں ، نیز لذتوں اور شہوتو ںکے سامنے جھکا کرتی ہو ، جس میں ایسی بے جان چیزوں کی پرستش کی جاتی ہو ، جس سے نہ انسان کو ڈرنے کی ضرورت ہو اور نہ اس کے اعمال و افکار پر کوئی پابندی عائد ہو ، آج بھی مسلمانوں سے نفرت و عناد اور انہیں بدنام و رسوا کرنے کی کوششوں کا اصل سبب یہی ہے کہ جس گھر میں سب لوگ بے لباس ہیں ، یہ مذہب اور خدا پرستی کا لباس کیوں پہنے ہوئے ہے؟ یہ ہمارے بے خدا تمدن کے سامنے سرجھکانے کے بجائے خدا پرستی اور خدا ترسی کی بات کیوں کرتے ہیں ؟ یہ آخرت کا نام لے کر ہماری خوش عیشیوں میں کیوں بھنگ ڈالتے ہیں ؟ یہ مسجد اور نماز تک اپنے آپ کو محدود کرکے زندگی کے دوسرے مسائل میں مذہب سے کیوں آزادی حاصل نہیں کرتے اور انسان کی آزادی میں کیوں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں ؟

 

یہ بنیادی فکری اختلاف ہے ، جس نے خدا بیزار قوموں اور تہذیبوں کو اسلام کے خلاف آمادۂ پیکار کردیا ہے اور وہ اس کے بغیر راضی نہیں ہوسکتے کہ مسلمان اپنے تہذیبی اور مذہبی تشخص سے بازآکر اقوام مغرب کو اپنا قبلہ بنالیں :

 

 { لَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ } ( البقرۃ : ۱۲۰) 

 

      اس لئے آج کے ماحول میں مسلمانوں کے لئے وہی اسوہ ہے ، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اختیار کیا تھا ، یعنی مشکلات پر صبر و استقامت اور ہر طرح کی مشکلات کو جھیلنے کے باوجود خدا کے تعلق پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا ، اگر مسلمان اسوۂ ابراہیمیؑ پر قائم رہیں ، تو انشاء اللہ وہ امتوں کی امامت سے سرفراز کئے جائیں گے اور مسلمانوں کو کتناہی بدنام اور رسوا کرنے کی کوشش کی جائے ، خدا کی طرف سے ان کو عزت و سر بلندی حاصل ہوگی ، جیسا کہ خدا کایہ وعدہ حضرت ابراہیم ں کے حق میں پورا ہوا ۔ { قَاَل إِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا } (البقرۃ : ۱۲۴) ۔

            

 پیشکش: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ