Wednesday , January 22 2020

آسام : احتجاج میں 17 سالہ لڑکے کو منہ میں گولی ماری گئی

٭ شہریت (ترمیمی) بل اور نئے قانون شہریت کے خلاف آسام میں جاری احتجاجوں کے دوران 17 سالہ لڑکا سام پولیس کی فائرنگ میں گولی لگنے سے مارا گیا۔ اس کے ہم جماعت عبادل نے کہا کہ لگ بھگ 500 احتجاجی جمع تھے اور وہ اور اس کے دوست صرف نعرے بازی کررہے تھے۔ عبادل نے بتایا کہ یکایک سڑکوں کی لائٹس گل ہوگئیں اور پولیس نے فائرنگ شروع کردی۔ سام اپنی زندگی بچانے بھاگنے لگا، وہ دہشت پیدا کرنے والا ماحول تھا۔ عبادل نے کہا کہ سام کے منہ سے گولی نکل گئی اور شہریت کیلئے جاری احتجاج میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT