لکھنو: لکھیم پوری کھیری تشدد کے اہم ملزم آشیش مشرا کو 10 گھنٹے طویل پوچھ تاچھ کے بعد آج گرفتار کرلیا گیا ۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل اوپیندر اگروال نے گرفتاری کی تصدیق کی جو اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کی قیادت کررہے ہیں ۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کو لکھیم پور تشدد واقع کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کے لیے آج طلب کیا گیا تھا ۔ اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے تقریبا 10 گھنٹوں تک ان سے پوچھ تاچھ کی ۔ آشیش مشرا سے واقع سے متعلق کئی سوالات کئیے گئے لیکن ایس آئی ٹی ان کے جوابات سے مطمئن نہیں ہوئی ۔ اوپیندر اگروال نے بتایا کہ پوچھ تاچھ میں تعاون کرنے میں ناکامی کے بعد آشیش مشرا کو گرفتار کیا گیا ۔ حادثہ کے دن ان کی موجودگی سے متعلق مختلف سوالات کئے گئے جن کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے ۔ آشیش مشرا نام لکھیم پور کھیری تشدد کیس کی ایف آئی آر میں اہم ملزم کے طور پر شامل ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ کسانوں کے ہجوم پر انہوں نے اپنی گاڑی چڑھا دی ۔ جس کے نتیجہ میں 3 کسان ہلاک ہوگئے جب کہ مجموعی طور پر تشدد میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ مرکزی وزیر اجئے مشرا نے اس واقعہ سے ان کے بیٹے کا تعلق ہونے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ جس کار سے حادثہ ہوا بیٹے کی تھی لیکن وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھا ۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ کار پر سنگباری کی وجہ سے ڈرائیور توازن کھو بیٹھا تھا ۔ اترپردیش انتخابات سے قبل لکھیم پور کھیری کا یہ واقعہ اہم سیاسی موضوع بن گیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نہ صرف اس کی سخت مذمت کی جارہی ہے بلکہ آشیش مشرا کی گرفتاری کے علاوہ مرکزی وزیر کو کابینہ سے برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس کیس کے ملزمین کی عدم گرفتاری پر ریاستی حکومت کی سرزنش کی گئی تھی ۔ جس کے بعد پولیس حرکات میں آئی ۔۔