آندھرا پردیش ترقی کی راہ پر گامزن: گورنر جسٹس عبدالنذیر

   

اسمبلی بجٹ سیشن کا آغاز، مشترکہ اجلاس سے گورنر کا خطاب، وائس ایس آر کانگریس ارکان کا واک آؤٹ
حیدرآباد 24 فروری (سیاست نیوز) آندھراپردیش اسمبلی کے بجٹ سیشن کا آج سے آغاز ہوا۔ گورنر جسٹس عبدالنذیر نے اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں ریاستی حکومت کی ترجیحات کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت نے عوام کی بھلائی کے ایجنڈہ کے ساتھ کارکردگی کو آگے بڑھایا ہے۔ گورنر نے کہا کہ انتخابات میں عوام نے این ڈی اے کو بھاری اکثریت عطا کی ہے اور گزشتہ پانچ برسوں میں آندھراپر دیش کو کئی مسائل کا سامنا رہا ۔ سابق حکومت کے دور میں ریاست کو کافی نقصان ہوا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت نے سوپر 6 اسکیمات کے ذریعہ عوام کی بھلائی و ترقی کے اقدامات کئے ہیں۔ اقتدار کے حصول کے فوری بعد اراضی اصلاحات کا آغاز کرکے سابق حکومت کے اراضی ٹائٹل ایکٹ کو منسوخ کیا گیا ہے۔ انا کیٹین کے ذریعہ غریبوں کو رعایتی شرح پر غذا فراہم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے برسر اقتدار آنے کے بعد عوام کی انفرادی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک حکومت نے ریاست کیلئے ترقیاتی منصوبہ کو قطعیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کو نامزد عہدوں میں 54 فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات کی ترقی کیلئے بجٹ میں مناسب فنڈس مختص کئے جائیں گے۔ آندھراپردیش میں سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوا اور 6.5 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری سے عالمی اداروں نے اتفاق کیا۔ نئی صنعتوں کے قیام سے 4 لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہونگے۔ جسٹس عبدالنذیر نے کہا کہ حکومت تمام طبقات کی یکساں ترقی کی پابند ہے۔ اسمبلی پہنچنے پر چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو اور اسپیکر اینا پاتروڈو نے گورنر کا استقبال کیا۔ وائی ایس آر کانگریس کے ارکان اسمبلی و کونسل نے گورنر کے خطبہ کا بائیکاٹ کیا۔ اپوزیشن ارکان نے گورنر کے خطبہ میں رکاوٹ کی کوشش کی اور جگن موہن ریڈی کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہنگامہ آرائی کے بعد وائی ایس آر کانگریس ا رکان نے واک آؤٹ کر دیا۔1