حیدرآباد۔/2 مارچ، ( سیاست نیوز) حکومت آندھرا پردیش نے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے بھی ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی۔ یکم مارچ سے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری چالانات کئے جائیں گے اور ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔ پہلی مرتبہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر صرف جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ دوسری یا تیسری مرتبہ پکڑے جانے پر بھاری چالانات کے علاوہ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ بغیر ہیلمٹ کے گاڑی چلانے پر ایک ہزار روپئے جرمانہ، بائیک پر دو افراد بیٹھنے پر دونوں کو بھی ہیلمٹ پہننا لازمی کردیا گیا ہے۔ گاڑی پر تین افراد کی سواری کرنے پر بھی ایک ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ کار میں سیٹ بیلٹ کا استعمال بھی لازمی ہے۔ سیٹ بیلٹ نہ ہونے پر ایک ہزار روپئے جرمانہ ہوگا۔ شراب نوشی کرکے گاڑی چلانے پر دس ہزار روپئے جرمانہ کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔ نابالغ لڑکے گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے جانے پر پچیس ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور جیل بھی ہوسکتی ہے۔ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے پر پانچ ہزار روپئے جرمانہ اور گاڑی کو ضبط کرلیا جائے گا۔ پولیوشن سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر 1500 روپئے جرمانہ ہوگا۔ گاڑی کا انشورنس نہ ہونے پر دو ہزار روپئے اور دوسری مرتبہ پکڑے جانے پر چار ہزار روپئے جرمانہ ہوگا۔ گاڑی چلاتے وقت سیل فون کے استعمال پر پہلی مرتبہ 1500 روپئے اور دوسری مرتبہ دس ہزار روپئے جرمانہ ہوگا۔ ٹریفک سگنل کو توڑنے پر ایک ہزار روپئے اور گاڑیوں پر کرتب کرنے پر پانچ ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ش