صدرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی علمائے کرام اور ائمہ عظام سے اپیل
حیدرآباد : /7 اگست ۔ اوقاف ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں ، ہمارے آباء و اجداد نے رضائے الٰہی اور اجر و ثواب کی نیت سے اپنی جائیدادیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہیں۔ اوقاف کی صیانت و حفاظت ہمارا اولین فریضہ ہے ۔ برسراقتدار طبقہ وقف ایکٹ 2013 ء میں ترمیم کرنا چاہ رہا ہے اور اندیشہ ہے کہ ایسی ترمیم وقف ایکٹ میں کی جائے گی جس سے اوقاف کی نوعیت و حیثیت بدل جائے گی اور اوقاف کا تحفظ غیر یقینی ہوجائے گا ۔ اسی طرح وقف بورڈ کے اختیارات بھی سلب کرلئے جائیں گے جس سے اوقاف پر قبضے کی راہیں ہموار ہوجائیں گی ، اسی تناظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بوررڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے تمام ائمہ مساجد اور علماء و خطباء سے اپیل کی ہے کہ اس جمعہ اور آنے والے جمعہ میں نماز جمعہ سے قبل وقف کے موضوع پر خطاب کریں ۔ صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ائمہ مساجد اور علماء و خطباء کو اس جانب بھی متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنے خطاب جمعہ میں وقف کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالیں ۔ نیز مسلمانوں کو اس بات سے واقف کرائیں کہ وقف جائیدادوں پر قبضہ نہایت نازیبا بات ہے ۔ حکومت وقت کے جو عزائم اور ارادے ہیں ان سے بھی لوگوں کو روشناس کرائیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے وقف کے موضوع پر خطاب جمعہ جاری کیا جارہا ہے ۔ ائمہ و خطباء اس سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔