بیروت: فلسطینی تنظیم حماس نے باور کرایا ہے کہ بیرون ملک حماس کے نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق کا زیر گردش بیان توڑمروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور یہ درست نہیں۔ حماس کے مطابق تنظیم کے اہم رہنما کے حوالے سے جو نقل کیا گیا وہ مکمل اور حقیقی مضمون کی عکاسی نہیں کرتا !اس سے قبل موسیٰ ابو مرزوق نے تصدیق کی تھی کہ اگر انھیں غزہ پٹی میں ہونے والی تباہی کے بارے میں علم ہوتا تو وہ حماس کے حملے کی مخالفت کرتے تنظیم کے اعلیٰ سطح کے رہنما کی جانب سے یہ ایک غیر معمولی اعتراف ہے۔حماس کے مطابق ابو مرزوق 7 اکتوبر کی کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں اور اسے فلسطینی عوام کا قانونی حق شمار کرتے ہیں بالخصوص جب کہ اسرائیل جنگی جرائم اور نسل کشی کا ذمے دار ہے۔ اس سے قبل حماس کے ترجمان حازم قاسم نے پیر کے روز کہا تھا کہ ابو مرزوق کا بیان حماس کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ترجمان نے زور دیا کہ حماس اپنے ہتھیاروں کو قانونی جواز کا حامل سمجھ کر اس پر ثابت قدمی سے قائم ہے۔ فلسطینی اراضی پر قبضہ برقرار رہنے تک ہتھیاروں کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہو گی۔ حازم قاسم نے باور کرایا کہ اسرایئل مغربی کنارے میں بھی اپنی تباہ کن پالیسی پر کاربند ہے۔حماس کے بیرون ملک نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق نے امریکی اخبار “نیویارک ٹائمز” کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر مجھے سات اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا علم ہوتا تو میں اس کی مخالفت کرتا۔