کانگریس کا بی جے پی پر ’ووٹ چوری‘ اور جمہوری عمل کو متاثر کرنے کا الزام
نئی دہلی۔23؍اگست ( ایجنسیز )اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستوں کی خبر منظر عام پر آئی ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی ایس آئی آر کے نام پر مسلم ووٹروں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کانگریس نے اسے ’ووٹ چوری‘ قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر جمہوری عمل کو متاثر کرنے کا الزام لگایا ہے۔کانگریس نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں نیوز لانڈری کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ کی 5 اسمبلی نشستوں سے ووٹروں کے نام حذف کرنے کیلئے سب سے زیادہ درخواستیں دینے والے 5 افراد بی جے پی سے وابستہ ہیں۔ پارٹی کے مطابق، ان درخواستوں کے ذریعے بڑی تعداد میں مسلم ووٹروں کے ناموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔نیوز لانڈری کی 21 اگست کو شائع رپورٹ کے مطابق ریاست کی 70 اسمبلی نشستوں میں نام حذف کرنے کے لیے سب سے زیادہ اعتراضات درج کرانے والے 5 افراد بی جے پی کے ہیں۔ ان افراد کی جانب سے دائر درخواستوں کی تعداد 230 سے لے کر 4855 تک رہی جبکہ 5 میں سے 4 اسمبلی حلقوں میں جن ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواست دی گئی وہ تمام مسلم تھے۔رپورٹ کے مطابق، ادھم سنگھ نگر ضلع کی کِچھا اسمبلی نشست پر نام حذف کرنے کے لیے مجموعی طور پر 4857 اعتراضات درج ہوئے جن میں سے 4855 درخواستیں راجیش تیواری نامی شخص نے داخل کیں۔ رپورٹ میں انہیں بی جے پی کا بوتھ لیول ایجنٹ بتایا گیا ہے۔ ان درخواستوں کے ذریعے جن ووٹروں کے نام حذف کرنے کی سفارش کی گئی وہ سب مسلم تھے۔ زیادہ تر درخواستوں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ ووٹر پہلے ہی کسی دوسری جگہ رجسٹرڈ ہیں۔غدرپور اسمبلی حلقے میں 1370 اعتراضات درج ہوئے جن میں سے 670 ایک شخص چنکیت ہوریا نے داخل کیے۔ رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں شامل تمام ووٹر مسلم تھے اور ہوریا کی سوشل میڈیا پروفائل پر بی جے پی میں مختلف عہدوں کا ذکر موجود ہے۔ ہوریا نے نیوز لانڈری کو بتایا کہ انہوں نے بی جے پی کے بی ایل اے-1 کی حیثیت سے ایسے ووٹروں کی فہرست تیار کی تھی جن کے نام اترپردیش اور اتراکھنڈ دونوں ریاستوں کی ووٹر لسٹ میں درج ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔کھٹیما میں 394 درخواستوں میں سے 392 درخواستیں امیت کمار پانڈے نے داخل کیں جنہیں رپورٹ کے مطابق بی جے پی کا ضلعی نائب صدر اور بوتھ لیول ایجنٹ بتایا گیا ہے۔ نانکمّتہ میں 391 فارم-7 درخواستوں میں سے 353 ایک شخص کشور جوشی نے داخل کیں جو خود کو بی جے پی کا بی ایل اے بتاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کی تمام درخواستیں مسلم ووٹروں کے خلاف تھیں۔
رودرپور میں نام حذف کرنے کیلئے 2818 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سب سے بڑی فہرست 230 ناموں کی تھی جو بی جے پی سے وابستہ سنی پاسوان نے جمع کرائی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 2023 کے ووٹر لسٹ مینوئل کے تحت بی ایل اے کے لیے ایک دن میں 10 سے زیادہ درخواستیں داخل کرنے کی حد مقرر تھی۔ بعد میں بعض ریاستوں میں یہ حد 50 درخواستیں یومیہ کی گئی جبکہ رواں سال جنوری میں مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل افسر کو بھیجے گئے ایک خط میں یہ حد مکمل طور پر ختم کیے جانے کا ذکر سامنے آیا۔تاہم بی جے پی نے کانگریس کے الزامات کی تردید کی ہے۔ پارٹی کے اتراکھنڈ ترجمان ونود چمولی نے نیوز لانڈری سے کہا کہ اگر کسی ووٹر کا نام غلط طور پر درج ہو یا وہ کسی دوسری جگہ بھی رجسٹرڈ ہو تو اس کے خلاف اعتراض داخل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اعتراضات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر درج کیے گئے ہیں۔انتخابی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی ووٹر کا نام صرف اعتراض داخل ہونے کی بنیاد پر حذف نہیں کیا جائے گا۔ کِچھا کے انتخابی رجسٹریشن افسر کے مطابق بڑی تعداد میں درخواستیں آنے کی صورت میں کراس ویری فکیشن ضروری ہے اور فیلڈ ویری فکیشن، قانونی نوٹس اور متاثرہ ووٹر کی سماعت کے بغیر نام نہیں ہٹایا جائے گا۔