نئی دہلی، 14 ستمبر (یو این آئی) پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ) نے دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو فرار قرار دیتے ہوئے اس پر انعام بڑھا کر 70 لاکھ پاکستانی روپے کر دیا ہے ۔ میڈیا کے مطابق پاکستان کے اس قدم کو بین الاقوامی تحقیقات سے بچنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے ۔ ایف آئی اے کی نئی ‘ریڈ بک’ میں مسعود اظہر کو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں رکھا گیا ۔ 2021ء میں اس پر 50 لاکھ پاکستانی روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا، جسے اب 20 لاکھ روپے بڑھایا گیا ہے ۔ پاکستان 2021ء سے دعویٰ کرتا رہا ہے کہ مسعود اظہر اس کے ہاں نہیں ہے اور افغانستان بھاگ گیا ہے ۔ وہیں، ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے گزشتہ چھ ماہ کے تکنیکی تجزیے کے مطابق، وہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے نواب شاہ شہر میں چھپا ہوا ہے ۔ کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے یہ دکھاوٹی کارروائی اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے پہلے کی گئی ۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ دوبارہ گرے لسٹ میں جانے سے بچ سکے ۔ کارروائی سے بچنے اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے پاکستان نے 2021ء میں دعویٰ کرنا شروع کیا تھا کہ مسعود اظہر اب اس کے ملک میں نہیں ہے اور افغانستان بھاگ گیا ہے ۔ اسی سال ایف آئی اے نے اس پر 50 لاکھ پاکستانی روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔ پانچ سال بعد اب یہ انعام بڑھا کر 70 لاکھ پاکستانی روپے کر دیا گیا ہے ۔نئی ریڈ بک میں 26/11 ممبئی حملوں سے جڑے 19 دہشت گردوں کے نام بھی ہیں۔ ان میں حملہ آوروں کیلئے کشتی کا انتظام کرنے ، مالی مدد دینے اور دیگر کاموں میں ملوث افراد شامل ہیں۔ ان میں سے 17 دہشت گردوں کے ناموں کے ساتھ ان کی تصاویر اور کردار بھی درج ہیں۔فہرست میں 26/11 حملوں کیلئے سمندری راستے کا انتظام کرنے والے لشکرِ طیبہ کے 11 دہشت گردوں کے نام ہیں۔ ان میں محمد امجد خان، شاہد غفور، محمد عثمان، عتیق الرحمن، ریاض احمد، محمد مشتاق، محمد نعیم، عبد الشکور، محمد صابر سلفی، محمد عثمان اور شکیل احمد نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ حملوں کیلئے مالی مدد دینے والے چھ دہشت گردوں کے نام بھی فہرست میں ہیں۔