ڈاکٹر مقتدر خان ،امریکہ
ہندوستان میں ایک بہت ہی دلچسپ اور غیرمعمولی واقعہ باالفاظ دیگر دلفریب واقعہ پیش آیا اور سوشل میڈیا پر اس واقعہ اور خبر کے کافی چرچے ہیں اور وہ یہ ہیکہ بھارت کے مشیر قومی سلامتی مسٹر اجیت دوال نے چنندہ مسلم شخصیتوں کے ساتھ ایک ملاقات کی جس میں تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کو درپیش مسائل کے بارے میں وفد کے خیالات کی سماعت کی اور اس کے بعد رپورٹس خاص طور پر گجرات سماچار کے مطابق اجیت دوال نے انگلش اور اردو ملی جلی زبان میں متاثرکن تقریر کی اور وہ بھی مسلم شخصیتوں سے تقریباً دیڑھ گھنٹے تک بات چیت کے بعد جس میں انہوں نے پرزورانداز میں کہا کہ بھارت میں ہندو اور مسلم صدیوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ ایک ساتھ تیریں گے یا ایک ساتھ ڈوبیں گے یعنی ایک ساتھ جئیں گے ایک ساتھ مریں گے۔ یہ بات انہوں نے کہی۔ اجیت دوال سے ملاقات اور تبادلہ خیال کرنے والے وفد کی قیادت مسٹر ظفر سریش والا نے کی۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ظفر سریش والا وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی ہیں۔ مسلم کمیونٹی کے وہ واحد ایسے لیڈر ہیں جو وزیراعظم مودی کی تعریف بھی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کافی یارانہ ہے اور وفد کے دیگر ارکان میں کے پی گروپ کے صدرنشین فاروق پٹیل، جرمن اسٹیل کمپنی کے سی ایم ڈی انعام الراقی، علیگڑہ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر نعیمہ خاتون، انجمن اسلام کے سربراہ ظہیر قاضی اور آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر نشاد حسین اور گجرات کے کچ سے تعلق رکھنے والے حاجی ریاما، نٹن والو سی ای او جنید شریف، جی ایل ایس سوئچ گیر کے ڈائرکٹر ظفرلاری داودی بوہرہ لیڈر الطاف صادق کوٹ، حج کمیٹی آف انڈیا کی سربراہ کوثر جہاں اور شامل تھے۔ غرض اجیت دوال سے ملاقات اور تبادلہ خیال کرنے والوں میں صنعتکار، ماہرین تعلیم، سماجی جہدکار، ڈاکٹر اور آزاد صحافی ثمینہ شیخ شامل تھے۔ یہ بہت دلچسپ واقعہ ہے میں نے کوشش کی کہ اجیت دوال کی اس تقریر ساتھ جئیں گے ساتھ مریں گے کے بارے میں قارئین اور ناظرین کو واقف کرواؤں۔ مطلب یہ بات تو کسی بھی سمجھدار کیلئے واضح ہونا چاہئے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ بھارت میں تقریباً 25 کروڑ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کی اس قدر کثیر تعداد کل غائب ہونے والی نہیں آپ کتنا بھی جادو ٹونا کرلیں بھارت کا مستقبل مسلمانوں سے اور بھارتی مسلمانوں کا مستقبل بھارت سے بڑی مضبوطی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بھارت اگر ترقی کرتا ہے تو بھارت کے مسلمان بھی ترقی کریں گے یہ بات تو ہر کسی پر واضح ہے اور اگر کوئی یہ بات نہیں مانتا یہ بات نہیں سمجھتا تو وہ یقینا بیوقوف ہے۔ تو یہ بات جو ہوئی ہے اس ملاقات اور بات چیت کو میڈیا نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ میڈیا میں اس ملاقات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی لیکن مجھے یہ ملاقات بہت دلچسپ لگی کیونکہ ایسی ملاقاتیں وزیرداخلہ امیت شاہ کے ساتھ ہوتی یا اقلیتی امور کے جو وزیر ہیں ان کے ساتھ ہوتی، وزیراعظم کے ساتھ ہوتی تو اسے ایک معمول کی ملاقات کہا جاسکتا تھا لیکن مشیر قومی سلامتی اجیت دوال کے ساتھ ملاقات اسلئے اہمیت اختیار کر گئی کہ مسٹر دوال قومی سلامتی کے نگران ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہیکہ کیا یہ قومی سلامتی کا موضوع بن گیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں سے وہ ملاقات کررہے ہیں۔ اس ملاقات کے بارے میں خود مجھ میں دلچسپی اس لئے پیدا ہوئی کہ آخر کیوں اجیت دوال مسلمانوں سے ملاقات کررہے ہیں؟ پچھلے چند ماہ میں اجیت دوال نے کافی دلچسپ باتیں کی ہیں ان کی بعض پرانی باتیں سامنے آئیں کہ مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں نے بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں فروخت کیا ہے۔ بھارت کے خلاف ہندوؤں نے پاکستان کیلئے جاسوسی کی ہے۔ اس طرح کے ماضی کے بیانات بھی منظرعام پر آئے لیکن مسلم شخصیتوں سے ان کی حالیہ ملاقات بہت دلچسپ رہی۔ میں کوشش کروں گا کہ اس میٹنگ میں شامل مسٹر ظفر سریش والا سے ربط پیدا کرکے معلومات حاصل کروں گا اور آپ کو بھی واقف کرواؤں گا۔ اس سے قبل بھی آر ایس ایس نے مسلمانوں کے ساتھ مذاکرات شروع کئے تھے جس کی قیادت دہلی کے سابق لیفٹننٹ گورنر مسٹر نجیت جنگ نے کی تھی۔ ان کے ساتھ بھی ہم نے اس موضوع پر بات کی تھی۔ یہ مذاکرات یقینا ثمرآور عمل ہے اسے آگے بڑھانا چاہئے۔ ایک چیز یہ ہیکہ ہم نے امریکہ میں گورنرس سنیٹرس اور بااثر سیاستدانوں سے مسلم مسائل پر بات کی ہے۔ جب ہم یہاں مثال کے طور پر وفود بناتے ہیں تو گورنر کے پاس سے فون آتا ہے کہ برائے مہربانی کیا آپ وفد میں شامل لوگوں کی فہرست فراہم کرسکتے ہیں تو ہم لوگ جب فہرست تیار کرتے ہیں تو اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اس میں عوام کے حقیقی نمائندوں کے نام شامل ہوں جو بہتر طور پر عوام کی نمائندگی کرسکیں اور اس وفد میں مختلف برادریوں کے قائدین شامل کئے جاتے ہیں تاکہ اگر کوئی بات چیت سنجیدہ ہوگئی تو برادری کے لیڈران اپنی کمیونٹی کی طرف سے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں اور وعدے حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر اجیت دوال ایسے لوگوں سے مل رہے ہیں جو صرف اپنی ہی بات کرسکتے ہیں اپنی ہی کمپنی کی بات کرسکتے ہیں تو پھر اس عمل کا نکتہ کیا ہے۔ بھارت میں جو مسلمان ہیں ایک ان کا جو مذہبی طبقہ ہے ان کے چند مذہبی رہنما میں مولانا محمود مدنی صاحب جمعیتہ العلماء کے وہ صدر ہیں۔ ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ہے اگر اجیت دوال ان سے بھی ملاقات کرلیتے تو بہت اچھا ہوتا۔ اسد اویسی بھی اہم مسلم آواز ہے نہ صرف وہ جنوبی ہند میں بلکہ ان کی پارٹی بہار میں تو کانگریس سے بھی بڑی ہوگئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس کو Represent کرتے ہیں کیا یہ وہی لوگ ہیں جو ملنا چاہ رہے تھے۔ یہ میرے لئے بڑا مسئلہ ہے کہ آیا یہ لوگ Representative ہیں یا نہیں اس لئے ایک سوال ہے جو ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے ان لوگوں کے بارے میں۔ دوسری چیز یہ ہیکہ اجیت دوال صاحب نے جو کچھ کہا میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا ہندو اور مسلمان جئیں گے ساتھ مریں گے ساتھ۔ میں یہ جاننتا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے اجیت دوال سے کیا بات کی اس کی مجھے کہیں سے بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ وہ دیڑھ گھنٹہ جو مسلم وفد کے ساتھ بات چیت ہوئی بعض رپورٹس کے مطابق ان لوگوں نے مسلمانوں کو درپیش چند چیلنجز پیش کئے اور ان لوگوں نے اجیت دوال سے شکوہ کیا کہ حکومت میں مسلمانوں کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ سرکاری اداروں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں ہے۔ شاید انڈیا ٹوڈے اخبار میں اس تعلق سے یہ رپورٹ شائع ہوئی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مسلمانوں کے مسائل چھیڑے جاتے ہیں تو مسلمانوں کی طرف سے بات کرنے کے معاملہ میں ان میں سے کوئی نظر نہیں آتا۔